جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا

 

جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا

طالب ہے خدا جس کا وہ انساں نہیں دیکھا

 

قرآن میں اللہ نے تعریف کی ان کی

ہے کون جسے ان کا ثناء خواں نہیں دیکھا

 

نفرت ہو جسے ذکرِ شہنشاہِ زمن سے

ایسا تو کوئی ہم نے مسلماں نہیں دیکھا

 

جس دل میں نہیں سرورِ عالم کی محبت

شاداں نہیں دیکھا اسے شاداں نہیں دیکھا

 

کیوں عظمتِ سرکار سے انکار ہے تجھ کو

منکر یہ بتا تونے کیا قرآں نہیں دیکھا

 

کیا آئیں نظر اس کو بَھلا عرش کے جلوے

جس نے کہ درِ سرورِ ذیشاں نہیں دیکھا

 

ثابت ہی قدم رہتے ہیں اَفکار واَلم میں

بس اُن کے غلاموں کو پریشاں نہیں دیکھا

 

واللہ شفیق امتِ عاصی کے وہی ہیں

اُمًت کا کوئی اور نگہباں نہیں دیکھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں درِ مصطفیؐ پہ جاتا ہوں
حبیبِ کبریاؐ ہیں، بالیقیں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں
نُطق کا ناز بنے، کیف سے معمور ہُوئے
پاتے ہیں وہی رحمتِ سلطانِ مدینہ
خامۂ حرف بار چُپ ، لہجۂ گُل بہار چُپ
زندگی اُس کی بصد رنگِ دگر رہتی ہے
امکانِ حرف و صوت کو حیرت میں باندھ کر
بس ایک نعت کہی بے زبان سانسوں نے
ہے کلامِ خدا ، کلامِ حضور
محبوب کردگار کی رفعت تو دیکھئے

اشتہارات