جھانکتے جھانکتے کنارے سے

جھانکتے جھانکتے کنارے سے

رات میں گر پڑا ستارے سے

 

ویسے میں صف میں آخری تھا مگر

اُس نے بلوا لیا اشارے سے

 

اور پاس آگیا بچھڑ کر تو

فائدہ ہو گیا خسارے سے

 

گھر نہیں ، بے گھری بنائی ہے

میں نے وحشت کے اینٹ گارے سے

 

شاعروں نے کمائی کی ہے بہت

رائیگانی کے استعارے سے

 

تُو مرے رَب کا فیصلہ ہے میاں

تجھ کو پایا ہے استخارے سے

 

اک مسافر کو دیکھتا تھا کوئی

شہر کے آخری منارے سے

 

تلخیوں کے علاوہ کیا ملتا

ایک میٹھے کو ایک کھارے سے

 

کچھ نہ پوچھو کہ کیا کِیا فارس

ایک پیارے نے ایک پیارے سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن
ایسے نحیف شخص کی طاقت سے خوف کھا
طاقِ نسیاں سے اُتر ، یاد کے دالان میں آ
ڈھول کی تھاپ پر کہی گئی ایک نظم
مگر پھر ایک دن اُس سے مِلا میں
اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
زخم ، بھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں

اشتہارات