اردوئے معلیٰ

جھکا ہوا ہے مرا سر اُٹھا نہیں سکتا

جھکا ہوا ہے مرا سر اُٹھا نہیں سکتا

کرم نبی کے ہیں کیا کیا بتا نہیں سکتا

 

کٹا تو سکتا ہوں گردن نبی کی حرمت پر

مگر میں رتبہ نبی کا گھٹا نہیں سکتا

 

حضور آپ بلالیں تو بات ہی کیا ہے

وگرنہ شرم گنہ سے میں آ نہیں سکتا

 

نبی کے ماننے والا کبھی بھی اپنا سر

یزیدِ وقت کے آگے جھکا نہیں سکتا

 

عزیز جس کو نہ ہوں مصطفیٰ ہر اک شے سے

میں ایسے شخص کو مؤمن بلا نہیں سکتا

 

دعا ہے میری کہ مدفن میرا مدینہ ہو

گدا ہوں ان کا کہیں اور جا نہیں سکتا

 

بسی ہوئی ہے مرے دل میں آرزو ان کی

قمرؔ میں دل میں یہ دنیا بسا نہیں سکتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ