جہانِ جود و سخا میں نہیں ہے اس کا بدل

جہانِ جود و سخا میں نہیں ہے اس کا بدل

وہ جس کی چشمِ عطا سب کی مشکلات کا حل ہے

 

اُسی کی مدح گری فنِ شاعری کا فروغ

وہی ہے شانِ قصیدہ، وہی ہے جانِ غزل

 

اُس آفتابِ نبوت کے نور سے روشن

محبتوں کے مظاہر، عقیدتوں کے محل

 

جہان خلقت و بعثت میں اول و آخر

اند کا قافلہ سالار، اعتبارِ ازل

 

خوشا نصیب، مری لغزشیں معاف ہوئیں

نبی کی نعت سے روشن ہوئی ہے فردِ عمل

 

حیاتِ معصیت آلود میں کھلا اخترؔ

ثنائے سرور عالم کا بے مثال کنول

 

نبی نے صاحبِ دیوان کر دیا اخترؔ

ملا ہے مجھ کو مری نیتِ سخن کا پھل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ