اردوئے معلیٰ

آج پاکستان کی نامور افسانہ و ناول نگار حجاب امتیاز علی کا یومِ وفات ہے

حجاب امتیاز علی (پیدائش: 4 نومبر، 1908ء- وفات: 19 مارچ، 1999ء)
——
حجاب امتیاز علی نے 4 نومبر، 1908ء میں حیدر آباد دکن، ہندوستان کے ایک مقتدر اور مہذب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد سید محمد اسماعیل نظام حیدر آباد کے فرسٹ سکریٹری تھے۔ حجاب نے عربی، فارسی، اردو اور موسیقی کی تعلیم گھر پر ہی پائی۔ حجاب کی والدہ عباسی بیگم بھی اپنے عہد کی معروف ناول نگار تھیں۔ ان کا ناول زہرہ بیگم مقبول ہوا اور فلسفیانہ مقالات کا مجموعہ گل صحرا ان کی قابل قدر یادگار ہے ۔ حجاب نے انگریزی تعلیم کالج میں حاصل کی، جس میں انہیں عبور حاصل تھا۔
حجاب کی شادی 1935ء میں ڈراما انارکلی کے مصنف امتیاز علی تاج سے ہوئی۔ نکاح سے قبل حجاب کا نام حجاب اسماعیل تھا، جو بعد میں حجاب امتیاز علی مشہور ہو گیا ۔
حجاب نے 1936ء میں ناردن لاہور فلائنگ کلب سے ہوا بازی کی سند حاصل کی اور برٹش گورنمنٹ کی وہ پہلی خاتون پائلٹ کہلائیں۔ اسی برس تہذیب نسواں میں ان کی ہوا بازی کے متعلق ایک نظم چھپی تھی، جس نے حجاب کو کافی شہرت دی ۔
حجاب نے قریب بارہ برس کی عمر میں جب قلم پکڑا تو میری ناتمام محبت منظر عام پر آیا۔ یہ فقط ایک افسانہ کا عنوان ہی نہ تھا، بلکہ ایک افسانوی مجموعہ کا نام بھی بن گیا۔ عشقیہ موضوع پر حجاب کی یہ کاوش بہت مقبول ہوئی۔ بارہ برس کی اس کم سن تخلیق کار کو اپنی والدہ سے قلمی تعاون حاصل تھا، جس کی وضاحت حجاب نے کئی مقامات پر کی ہے۔ حجاب کے افسانے فنی اور لسانی دونوں اعتبار سے بلند ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں غضب کی دلکشی اور تاثیر ہے۔ ان کے افسانوں میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں، جو ایک کامیاب کہانی کا ر میں ضروری ہیں۔ حجاب کے افسانوں کا پلاٹ اکہرا، چست درست، مربوط اور مضبوط ہے۔ برجستگی کا لطف اور زبان کی چاشنی بھرپور ہے۔ حجاب نے اپنی تحریروں سے ادب کو نئی جہت دی۔ ناولوں میں اندھیرا خواب، ظالم محبت، وہ بہاریں یہ خزائیں، سیاح عورت، افسانوی مجموعے میری ناتمام محبت، ممی خانہ، تحفے اور شگوفے قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں انھوں نے دیگر تحریریں بھی یاد گار چھوڑی ہیں۔ حجاب کی زندگی بے حدر نگین تھی۔ ان کی شام زیادہ تر پارٹیوں، ادبی محفلوں، سنیما ہال یاریستوراں میں گزرتی تھی۔ انھیں ہوا بازی کے علاوہ کار ڈرائیونگ، پالتو بلیاں، طوطے اور کبوتر پالنا اور ان کے ساتھ کھیلنا بہت پسند تھا۔ باجود ان تمام مصروفیات کے لکھنے اور پڑھنے کا بھی ان کا وقت مقرر تھا۔ تہذیب نسواں کی ادارتی ذمہ داریاں بھی انھوں نے نبھائیں۔ تاج کے ساتھ لاہور کی علمی وادبی فضا میں رہ کر ان کے ادبی ذوق میں مزید نکھار پیدا ہوا۔
——
یہ بھی پڑھیں : پروفیسر شفقت رضوی کا یوم پیدائش
——
ایک مستند ومعتبر فنکار کے لیے تمثیل نگاری اور معاشرے کی ترجمانی اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک اس کی نظر کائنات سے گہرائی کا مطالعہ نہ کرلے اور اسے سماج کے نشیب وفراز سے پوری آگہی نہ ہو۔ حجاب کا تجربہ ومطالعہ نہایت وسیع ہے، اس لیے وہ منظر نگاری کے دل پزیر ودلکش خاکوں کی سچی تصویر بناتی ہیں اور ایسا حسین کینوس کہ قاری کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ اس نظارہ کو بچشم خود دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا ہے۔ حجاب کی زندگی کا بڑا حصہ سیر وتفریح میں بیتا ہے، لہٰذا جو کچھ انھوں نے دیکھا، محسوس کیا، ان کو افسانوی رنگ میں پیش کر دیا۔ حجاب کی کہانیوں اور ناولوں کے کردار عاشقانہ ورومانی ہونے کے باوجود اخلاقی وتہذیبی روایات کے باغی نہیں ہیں۔ وہ ان لطیف اقدار کو محبوب رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رومانیت کی دھیمی آنچ میں ابھرتے محبت کے جذبات دلوں میں اتر جاتے ہیں۔
——
تصانیف
——
ناول
ظالم محبت
اندھیرا خواب
پاگل خانہ
افسانوی مجموعے
وہ بہاریں یہ خزائیں
میری ناتمام محبت
احتیاط عشق
ممی خانہ
تحفے اور شگوفے
صنوبر کے سائے اور دوسرے رومان
آپ بیتی
تصویرِ بتاں
ڈائری
لیل و نہار
تراجم
ننھی بیبیاں
——
اعزازات
——
حجاب امتیاز علی کے آخری ناول پاگل خانہ کو آدم جی ادبی انعام سے نوازا گیا اور حکومت پاکستان نے آپ کی گرانقدر ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔
——
وفات
——
19 مارچ 1999ء کو حجاب امتیاز علی لاہور، پاکستان میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
ناقدین کی آراء
سجاد حیدر یلدرم نے حجاب بارے میں لکھا ہے:
——
”حجاب کے تخیل نے ایک نئی دنیا خلق کی ہے اور اس دنیا میں ایک نئی اور نہایت دلکش مخلوق آباد کی ہے۔ یہ دنیا، جس میں ہم اور آپ رہتے ہیں، اس سے علاحدہ ہے، گو اس سے ملتی جلتی ہے اور جو لوگ اس دنیا میں آباد ہیں، وہ ہم سے مشابہ تو ضرور ہیں، مگر بالکل ہماری طرح نہیں ہیں۔۔ “
قرۃ العین حیدر نے حجاب کے بارے میں لکھا ہے:
”اردو فکشن میں حجاب امتیاز علی کو وہی اہمیت حاصل تھی، جو فوراً بعد کے دور میں عصمت چغتائی کو ملی اور یہ دونوں خواتین صاحبِ طرز اور منفرد وافسانہ نگار تھیں۔ گو دونوں کے یہاں زندگی کے رویہ ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد تھے، ایک کے یہاں موتیا کی ٹہنی پر گانے والی کوئل، کاؤنٹ لوث اور مادام زبیدہ تھیں، دوسری کے یہاں درانتی اور ہتھوڑا۔ ہندوستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ مرتب کرنے والوں کے لیے یہ دونوں خواتین دو اہم ادوار کی ترجمانی اور نمائندگی کرتی ہیں اور دونوں کے مطالعہ کے بغیر اردو فکشن کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔۔ “
ڈاکٹر مجیب احمد خان نے حجاب پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ ان کا مقالہ حجاب امتیاز علی فن وشخصیت چھپ چکا ہے۔ ڈاکٹر موصوف ہندو پاک کے غالباً پہلے شخص ہیں، جنھوں نے 1992ء میں حجاب پر تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ ڈاکٹر مجیب خاں نے حجاب کے فن وشخصیت کے بارے میں لکھا ہے:
”حجاب بلا کی ذہین تھیں۔ ان کا مطالعہ وسیع، مشاہدہ اور تجربہ بھی بے حد تیز اور گہرا ہے، اس لیے وہ عوامی زندگی کی عکاسی تو کرتی ہیں، مگر انھیں عوامی زندگی سے کوئی خاص واسطہ نہیں ہے۔ اگرچہ انھوں نے بھرپور سماجی زندگی گزاری، مگر ان کے کرداروں میں زندگی کی یہ رمق نظر نہیں آتی۔ ان کے کردار زندگی کے مسئلے کو غور وفکر سے حل کرتے ہیں اور کبھی کبھی جذبات کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔ وہ شرافت اور سنجیدگی کا مجسمہ ہوتے ہیں۔ ان کے کردار ہر افسانہ وناول کے جانے پہچانے ہونے کے باوجود تخیلّی، اعلیٰ اور مہذب سوسائٹی کے ہوتے ہیں اور ان میں غیر معمولی خوبیاں ہوتی ہیں۔۔
——
منتخب اقتباسات
——
میری نا تمام محبت سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
——
”اب آفتاب غروب ہو گیا تھا۔ باغ کے دریچے سے ہوکر ایک اداس روشنی اندر آرہی تھی، جس کو دیکھ کر میں اکثر اوقات شدتِ رنج سے روپڑتی تھی۔ ایسی اداس روشنیاں دونوں پر اکثر درد ناک اثر کرتی ہیں۔ دسمبر کا درخشاں اور بڑا سا آفتاب سرخ ہوکر دریائے شون کی تلاطم خیز اور گرجنے والی موجوں میں ڈوب رہا تھا، آسمان گہرا سرخ نکل آیا تھا، خنک اور خوشگوار ہوائیں چل رہی تھیں۔
——
پاگل خانہ سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
——
”بلاشبہ کائنات بڑی حسین ہے۔ اسی حسن کی بارگاہ میں تو میری ساری عمر پرستش میں گزر رہی ہے، لیکن ابھی آفتاب ڈوب جائے گا اور کائنات کے سارے رنگ بدل جائیں گے۔“
——
صنوبر کے سائے سے اقتباس
——
میں جب سے ان پہاڑی علاقوں میں آئی تھی ’’نہر روحناک‘‘ کی رعنائیوں کا ذکر ہر خاص و عام سے سنتی تھی، لوگ کہتے، اس کے صنوبر کے سایوں سے ڈھکے ہوئے کناروں پر سہا نے خوابوں کی رومان جھلملاتی ہے۔ پہاڑی خانہ بدوشوں کا بیان تھا کہ نا معلوم پہاڑوں کی بلندیوں نے ایک مقام پر آسمان کے نیل میں شگاف کر رکھا ہے اور روحناک کی نیلی دھار وہیں سے اترتی اور کوہساروں میں سے ہوتی پھرتی اس وادی میں ایک ندی بن کر آ نکلتی ہے۔
بھلا آپ غور کیجئے۔ ان رومانی فقروں کو سن کر مجھ جیسی سیر و سیاحت کی دلدادہ سے کب نچلا بیٹھا جا سکتا تھا؟
ایک دن میں اپنی محبوب سہیلی جسوتی سے مچل کر کہا، ’’جسوتی ہمیں یہاں آئے دو ہفتے گزر چکے۔ مگر ہم نے نہر روحناک کی سیراب تک نہیں کی۔ تم پسند کرو تو آج شام کشتی کی سیر کو چلیں۔‘‘
جسوتی کو آپ جانتے ہیں۔ سفید چہرے والی سلیم الطبع لڑکی ہے۔ اس سفر میں، میں اسے اپنے ساتھ تقریباً کھینچ کر لائی تھی۔
اس نے مسکراکر کہا، ’’جیسی تمہاری مرضی روحی، لیکن پانی سے مجھے ڈر لگتا ہے۔‘‘
اسی وقت جسوتی کے ایک محبوب حبشی نژاد خانہ زاد نے کہا، ’’خاتون میں نے سنا ہے ساحل روحناک پر ایک بہت مشتاق سو سال کا بوڑھا ملاح رہتا ہے۔ اس کی کشتی کبھی لہروں پر نہیں ڈگمگاتی۔ اگر آپ اجازت دیں تو اسی ملاح کی کشتی کرائے پر لے لی جائے۔‘‘
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات