حروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیں

حروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیں

مرے کریم یہ تیرے غلام حاضر ہیں

 

جو اذن یاب ہوئے ہیں اُنہیں مبارک ہو

ہم ایسے خواب گروں کے سلام حاضر ہیں

 

ترے حضور میں پیہم ہے قدسیوں کا نزول

جو صبح اذن نہ پائے وہ شام حاضر ہیں

 

یہ شہرِ پاک مدینہ ہے کوئی خلد نہیں

ترے حضور میں سب خاص و عام حاضر ہیں

 

عجیب پھیلی ہے اقصیٰ کے صحن میں خوشبو

تری جناب میں سارے امام حاضر ہیں

 

بدستِ شاہ دئیے جائیں گے غلاموں کو

رفیع مرتبے، اعلیٰ مقام حاضر ہیں

 

حضور آپ ہی رب کے حضور پیش کریں

مِرے قعود و سجود و قیام حاضر ہیں

 

قیامِ ناز کرم سے ذرا بعید نہیں

دل و نگہ کے یہ خستہ خیام حاضر ہیں

 

کرم کا طرفہ نظارہ ہے تیری چوکھٹ پر

غلام، جن میں ہے مقصودِؔ خام حاضر ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ