اردوئے معلیٰ

Search

حزن و ملال میں ہے سہارا حضور کا

کافی ہے مغفرت کو حوالہ حضور کا

 

ضَو بار سربسر ہیں تصور سے چشم و دل

اک عالمِ تجلی ہے چہرہ حضور کا

 

یہ ہے کمال، وہ ہیں رسولوں میں آخری

پَر پہلا پاؤں خلد میں ہوگا حضور کا

 

منت پذیر ان کا ہے یہ کاروبارِِ ہست

یوں دیکھئے تو کھاتی ہے دنیا حضور کا

 

خوشبو کا باغ لگنے لگی مری پور پور

دوشِ ہوا پہ نام جو لکھا حضور کا

 

جنت ہماری عشرتِ دنیا ہے غیر کی

کہتا ہے ہم سے فرش پہ تکیہ حضور کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ