حسین آپ نے اُمت کی آبرو رکھ لی

حسین آپ نے اُمت کی آبرو رکھ لی

شہید ہو کے شہادت کی آبرو رکھ لی

 

اس اہتمام سے گلزار مصطفیٰ اُجڑا

بہار باغِ شریعت کی آبرو رکھ لی

 

قریب تھا کہ حقیقت کا نام مٹ جاتا

ُ ّحسینیت نے حقیقت کی آبرو رکھ لی

 

خدا کے نام پہ جان دے کے بھوکے پیاسے نے

نظامِ قدرت و فطرت کی آبرو رکھ لی

 

خدا رسول کی توہین ہونے والی تھی

اطاعتوں نے اطاعت کی آبرو رکھ لی

 

بلند ہو کے سر شہ نے نوک نیزہ پہ

کلام حق کے تلاوت کی آبرو رکھ لی

 

صبیحؔ سرورِ ایثار کے رفیقوں نے

نثار ہو کے رفاقت کی آبرو رکھ لی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ