اردوئے معلیٰ

حضور توبہ طلب ہوں، ُسخن ہے لرزیدہ

حضور توبہ طلب ہوں، سخن ہے لرزیدہ

خطا سرشت کا پورا بدن ہے لرزیدہ

 

تمھارے آنے کی ساعت ہے بالیقیں آقا

سو قبر جھوم رہی ہے، کفن ہے لرزیدہ

 

یہ نعت عام سی صنفِ سخن نہیں، واللہ

قلم بہ دست مرا سارا فن ہے لرزیدہ

 

مَیں پہلی بار مدینے گیا تو ایسے لگا

کہ جیسے مِہر کی ہر اک کرن ہے لرزیدہ

 

حضور بارِ دگر اذنِ باریابی ہو

حضور عرض کناں ہوں جتن ہے لرزیدہ

 

عجیب محفلِ مدحت جمی ہے گلشن میں

سخن سرا ہیں عنادل، چمن ہے لرزیدہ

 

نواحِ طیبہ میں حالت عجیب ہے مقصودؔ

وجود سر بہ گریباں ہے، مَن ہے لرزیدہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ