اردوئے معلیٰ

Search

حضور آپ کا ہم کو ملا سہارا ہے

اسی کرم کے سبب سے بھرم ہمارا ہے

 

فلک کا چاند ہوا ٹکڑے شمس لوٹ آیا

زمیں سے عرش تلک آپ کا اجارا ہے

 

حضور ایک یہی بات لب پہ ہو میرے

کہ کہہ دیں آپ قیامت میں یہ ہمارا ہے

 

حضور آپ کے ہوتے کہاں کمی ہے مجھے

مدد کو آئے ہیں جب آپ کو پکارا ہے

 

کسی سے کیوں کہوں حاجت تجھی سے ملتا ہے

نہاں جو دل میں ہے سرور پہ آشکارا ہے

 

حضور آپ سے زاہدؔ کو جب ملی نسبت

حیات میں نہ کوئی اب اسے خسارا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ