اردوئے معلیٰ

حضور ہی ہیں چراغ وحدت، درود ان پر سلام ان پر

حضور ہی ہیں چراغ وحدت ، درود ان پر سلام ان پر

زباں پہ میری ہے ان کی مدحت ، درود ان پر سلام ان پر

 

ملی ہے ان سے رہ ہدایت ، درود ان پر سلام ان پر

مرے نبی ہیں شفیع امت ، درود ان پر سلام ان پر

 

جو سارے نبیوں کے پیشوا ہیں ، تمام عالم کے رہنما ہیں

خدا کی نعمت ہے ان کی بعثت ، درود ان پر سلام ان پر

 

تمام عالم پہ مہرباں ہیں ، وہ رحمت حق کے پاسباں ہیں

کتاب دیتی ہے یہ شہادت ، درود ان پر سلام ان پر

 

وہ جن کو رب سے عطا ہوئی ہے تمام عالم کی رہنمائی

ہے جن کی باتوں میں علم و حکمت ، درود ان پر سلام ان پر

 

عمل کا دعویٰ نہیں ہے میرا ، شفیع محشر پہ ہے بھروسہ

باذن ربی کریں شفاعت ، درود ان پر سلام ان پر

 

ہے لب پہ نعت نبی کا نغمہ ، زبان و دل پر ہے ان کا کلمہ

ہر ایک دل میں ہے ان کی چاہت ، درود ان پر سلام ان پر

 

مرے نبی کے کرم کا سایہ ، ہے جیسے نعمت کا بہتا دریا

تمام عالم پہ ان کی رحمت ، درود ان پر سلام ان پر

 

جو سبز گنبد کے پاس پہنچے ، تو یاد آئے نبی کے مژدے

کریں گے ہم سب کی وہ شفاعت ، درود ان پر سلام ان پر

 

دعائیں دیں جس نے دشمنوں کو ، قبائیں دیں جس نے قیدیوں کو

ہے دل میں خوشدل بس ان کی عظمت ، درود ان پر سلام ان پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ