اردوئے معلیٰ

حق ادا نعت کا اے راحتِ جاں کیسے ہو

 

حق ادا نعت کا اے راحتِ جاں کیسے ہو

کیسے ممکن ہے یہ اے جانِ جہاں کیسے ہو

 

نطق ہے عاجز و لاچار زباں لرزیدہ

یا نبی آپ کی توصیف بیاں کیسے ہو

 

جب تلک دل پہ نہ اُتریں تری یادوں کے قمر

ظلمتِ شب پہ اُجالوں کا گماں کیسے ہو

 

جن کے زخموں پہ لگا اُن کا لعابِ شیریں

اُن کے زخموں کا کوئی نام و نشاں کیسے ہو

 

بھول جاؤں گا سبھی رنج و الم دُنیا کے

آپ اگر پوچھ لیں اشفاقؔ میاں کیسے ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ