حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا

حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا

وہی ہے رہنما مجھ بے بصر کا

 

تصور میں خدا کے رُوبرو میں

ہوں رہتا سر خمیدہ، دست بستہ

 

نہیں تیرے سوا معبود کوئی

سمجھ جائے گا انساں رفتہ رفتہ

 

محبت گر کرے انساں خدا سے

رہے اس کو نہ کوئی ڈر نہ کھٹکا

 

کرے انساں ہر انساں سے محبت

ہے یہ منشور انساں کی بقا کا

 

ہمارے راہبر ہی راہزن ہیں

دِکھا ان کو خدایا سیدھا رستہ

 

ترے لطف و کرم سے شادماں ہے

ظفرؔ تھا دل گرفتہ، دل شکستہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ