حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا

حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا

وہی ہے رہنما مجھ بے بصر کا

 

تصور میں خدا کے رُوبرو میں

ہوں رہتا سر خمیدہ، دست بستہ

 

نہیں تیرے سوا معبود کوئی

سمجھ جائے گا انساں رفتہ رفتہ

 

محبت گر کرے انساں خدا سے

رہے اس کو نہ کوئی ڈر نہ کھٹکا

 

کرے انساں ہر انساں سے محبت

ہے یہ منشور انساں کی بقا کا

 

ہمارے راہبر ہی راہزن ہیں

دِکھا ان کو خدایا سیدھا رستہ

 

ترے لطف و کرم سے شادماں ہے

ظفرؔ تھا دل گرفتہ، دل شکستہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب عظیم ہے تو
دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘ مالک!
نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے
مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے
خدا کے نام سے ہی ابتدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے
خدا معبود مخلوقات کا ہے
خدا میرا زمانوں کا خدا ہے
جمال خانہ کعبہ دل کشا، جاذب نظر ہے
محبت ہو اگر بین الاُمم، ہو بین الاسلامی
خدا مشفق ہے مُونس مہرباں ہے