خاک جب اس پیکرِ نوری کا مدفن ہو گئی

 

خاک جب اس پیکرِ نوری کا مدفن ہو گئی

ساری دنیا کی زمیں اندر سے روشن ہوگئی

 

وقت نے جب آپ کی سیرت کو لکھا حرف حرف

اک نئی تہذیبِ انسانی مدون ہو گئی

 

آپ کی رحمت نے بدلا تند خوؤں کا مزاج

برقِ سوزاں خود نگہبانِ نشیمن ہو گئی

 

آپ کے زیرِ اثر ہر خلق نے پایا فروغ

ہر کلی اتنی پھلی پھولی کہ گلشن ہو گئی

 

روئے ہستی سے بدی کے داغ دھبے مٹ گیے

خیر سے انساں کی پیشانی مزیّن ہو گئی

 

جب وسیلہ آپ کی رحمت کا آیا درمیاں

درگہِ حق میں دعا منظور فوراً ہو گئی

 

جب سوا نیزے پہ آیا آفتابِ حشر خیز

چترِ رحمت عاصیوں پر سایہ افگن ہو گئی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے
دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو
ان کے نام پاک پر مرجائیے
وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد
دل تصدّق، جاں فدا اور روح قربانِ رسول
یارب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
میں سرپہ سجائےپھروں نعلینِ محمد
تو ابرِ گہرِ بار ہے، بارانِ عطا ہے
ثنائے ربِ جلیل ہے اور روشنی ہے
دن گذریں مدینے میں راتیں ہوں مدینے کی