اردوئے معلیٰ

خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اُٹھا

 

خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اُٹھا

آپ کیا آئے کہ ہستی کا مقدر جاگ اُٹھا

 

تیرگی سے خوف کھا کر جب پکارا آپ کو!

جسم و جاں میں روشنی کا اک سمندر جاگ اُٹھا

 

جب ہوئی ان کی صداقت کو شہادت کی طلب

ہاتھ میں بوجہل کے ہر ایک کنکر جاگ اُٹھا

 

رو کے سویا ہی تھا میں یادِ پیمبر میں ابھی

چشمِ تر میں گنبدِ خضرا کا منظر جاگ اُٹھا

 

جب ہوا درپیش مدحِ مصطفیٰ کا معرکہ

ذہن کے میدان میں لفظوں کا لشکر جاگ اُٹھا

 

منزلِ احساس کی راہیں منوّر ہو گئیں

سوچ کے آئینے میں اِک نور پیکر جاگ اُٹھا

 

قافلے جب بھی مدینے کے نظر آئے صبیحؔ

قلب مضطر کسمسایا دیدۂ تر جاگ اُٹھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ