اردوئے معلیٰ

خاک ہم ہیں،کوہِ فاراں ہیں علیِ مرتضی

دشت ہم ہیں ، ابر باراں ہیں علیِ مرتضی

 

ماورا تعداد سے ، اوزان سے ، مکیال سے

لطف تیرا ، تیرے احساں ہیں علیِ مرتضی

 

جملہ اربابِ شجاعت ، جملہ احباب سخن

تیری اک جنبش پہ قرباں ہیں علیِ مرتضی

 

رات ہجرت کی ہے ، بستر سیدِ کونین کا

آج تو قسمت پہ نازاں ہیں علیِ مرتضی

 

گردشِ ایام ، سیلابِ بلا ، کہسارِ غم

تیرے صدقے مجھ سے لرزاں ہیں علیِ مرتضی

 

تشنگی کا راج قائم رہ سکے کیونکر بھلا

جب قسیمِ جامِ عرفاں ہیں علیِ مرتضی

 

اہل عالم کے لیے ہیں جو ہدایت کا نصاب

وہ ترے اقوال و فرماں ہیں علیِ مرتضی

 

لا فتی الا علی سے بھید یہ ہم پر کھلا

شاہ مرداں شیر یزداں ہیں علیِ مرتضی

 

قافلے خوشبو کے اترے فکر کی دہلیز پر

یہ تری یادوں کے احساں ہیں علیِ مرتضی

 

کاش میں دیکھوں مزارِ فیض پرور آپ کا

حسرتیں یہ دل میں رقصاں ہیں علیِ مرتضی

 

اس لیے رہتا ہے ان کا ذکر ہونٹوں پر صدف

روح کی تسکیں کا ساماں ہیں علیِ مرتضی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات