خاک ہم ہیں،کوہِ فاراں ہیں علیِ مرتضی

خاک ہم ہیں،کوہِ فاراں ہیں علیِ مرتضی

دشت ہم ہیں ، ابر باراں ہیں علیِ مرتضی

 

ماورا تعداد سے ، اوزان سے ، مکیال سے

لطف تیرا ، تیرے احساں ہیں علیِ مرتضی

 

جملہ اربابِ شجاعت ، جملہ احباب سخن

تیری اک جنبش پہ قرباں ہیں علیِ مرتضی

 

رات ہجرت کی ہے ، بستر سیدِ کونین کا

آج تو قسمت پہ نازاں ہیں علیِ مرتضی

 

گردشِ ایام ، سیلابِ بلا ، کہسارِ غم

تیرے صدقے مجھ سے لرزاں ہیں علیِ مرتضی

 

تشنگی کا راج قائم رہ سکے کیونکر بھلا

جب قسیمِ جامِ عرفاں ہیں علیِ مرتضی

 

اہل عالم کے لیے ہیں جو ہدایت کا نصاب

وہ ترے اقوال و فرماں ہیں علیِ مرتضی

 

لا فتی الا علی سے بھید یہ ہم پر کھلا

شاہ مرداں شیر یزداں ہیں علیِ مرتضی

 

قافلے خوشبو کے اترے فکر کی دہلیز پر

یہ تری یادوں کے احساں ہیں علیِ مرتضی

 

کاش میں دیکھوں مزارِ فیض پرور آپ کا

حسرتیں یہ دل میں رقصاں ہیں علیِ مرتضی

 

اس لیے رہتا ہے ان کا ذکر ہونٹوں پر صدف

روح کی تسکیں کا ساماں ہیں علیِ مرتضی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

واجبِ تعظیم و عزت ، لائقِ صد احترام
اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
ماتمِ شبیرؑ کا د ل پر اثر پیدا ہوا
مقامِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
فاطمہ ، حیدر پہ جاں قربان ہو
جب رخ پاک سے پردہ وہ ہٹا دیتے ہیں
اے حریص امت مرحوم ! اک چشم کرم
کوئی کہاں ہے مثلِ حسینؓ ابنِ بو ترابؓ
علی و فاطمہ کا حوصلہ امام حسن
عظمت کے آسماں پہ اجارہ علیؓ کا ہے

اشتہارات