خدایا آرزو میری یہی ہے

خدایا آرزو میری یہی ہے

یہ حسرت دل میں کروٹ لے رہی ہے

 

بنوں کمزور لوگوں کا سہارا

دکھی لوگوں کو دوں ہر دم دلاسا

 

ضعیفوں، بیکسوں کے کام آؤں

غریبوں، مفلسوں کے کام آؤں

 

میں اپنے دوستوں کا دکھ اٹھاؤں

جو روٹھے ہوں انھیں ہنس کر مناؤں

 

برائی سے سدا لڑتا رہوں میں

بھلا ہر کام ہی کرتا رہوں میں

 

ہمیشہ علم سے رکھوں میں الفت

کتابوں سے سدا رکھوں محبت

 

جو بھٹکے ہوں انھیں منزل دکھاؤں

جو اندھے ہوں انھیں رستہ بتاؤں

 

کروں ماں باپ کی دل سے میں خدمت

رکھوں استاد سے اپنے محبت

 

بزرگوں کی نصیحت کو سنوں میں

عمل پھر اس نصیحت پر کروں میں

 

میں نفرت کے چراغوں کو بجھاؤں

دیا امن و محبت کا جلاؤں

 

کروں اپنے وطن کی پاسبانی

عطا کرنا مجھے وہ نوجوانی

 

خدایا آرزو کر دے یہ پوری

یہی بس التجا ہے تجھ سے میری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ