خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا

خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا

مجھے حمد و ثنا کا کام سونپا

 

رحیم و مُونس و مشفق خدا سا

کوئی ہرگز نہیں ہے ، تھا ، نہ ہو گا

 

خدا کا ذکر دلکش ہے دل آرا

مری جاں میرے تن من میں سمایا

 

خدا شہ رگ سے بھی نزدیک تر ہے

خدا کون و مکاں میں جلوہ فرما

 

ہوا گمراہ جب میں بھُولا بھٹکا

خدا نے ہی دکھایا سیدھا رستہ

 

میں جب گرنے لگا، اس وقت میرا

حبیبِ کبریاﷺ نے ہاتھ تھاما

 

دیارِ عشق میں طُرفہ تماشا

ظفرؔ مجذوب پر سایا خدا کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین و آسماں گُونجے بیک آواز، بسم اللہ
اَلحَمَّد توں لے کے وَالنَّاس تائیں​
خدا کا ذکر، ذکرِ دلکشا ہے
اُن پہ اللہ کرم کرتے ہیں
ترا لطف و کرم بے انتہا ہے
کرو رب کی عبادت، خدا کا حکم ہے یہ
تو خبیر ہے تو علیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
محبت کا نشاں ہے خانہ کعبہ
خدا ہی مرکزِ مہر و وفا ہے
کہوں میں حمدِ ربّی کس زباں سے