اردوئے معلیٰ

خدمت گزارِ نعتِ رسولِ کریم ہوں

خدمت گزارِ نعتِ رسولِ کریم ہوں

صد شکر! راہروئے رہِ مستقیم ہوں

 

دیکھا ہے جب سے سَیِّدِ کونین کا دیار

میں عافیت پسند، اسی میں مقیم ہوں

 

احساس سے پیام کی ترسیل ہو گئی

احسان مند کب ترا بادِ نسیم ہوں؟

 

پہلے تو فاصلے تھے بہت، لیکن اب نہیں

باشندگانِ طیبہ کا میں اب ندیم ہوں

 

کیسی سخن میں آئی ہے خوشبو یہ نعت کی

میں خود ہی مدحِ پاک کی گویا شمیم ہوں

 

عصیاں کا خوف دل کو رُلاتا ہے، پَر ’’اُمید‘‘

میں بھی تو اُمَّتیٔ رؤف الرَّحیم ہوں

 

مدحت نگار جب سے بنایا گیا مجھے

میں حاملِ نشانِ کلاہ و گلیم ہوں

 

ہر لفظ عاجزی کا مرقع تو ہے مگر

مدحت میں آکے کہتا ہے ’’میں بھی عظیم ہوں!‘‘

 

توفیقِ مدح پائی یہ کم تو نہیں عزیزؔ

خوش ہوں کہ میں بھی طورِ ثنا کا کلیم ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ