خدمت گزارِ نعتِ رسولِ کریم ہوں

خدمت گزارِ نعتِ رسولِ کریم ہوں

صد شکر! راہروئے رہِ مستقیم ہوں

 

دیکھا ہے جب سے سَیِّدِ کونین کا دیار

میں عافیت پسند، اسی میں مقیم ہوں

 

احساس سے پیام کی ترسیل ہو گئی

احسان مند کب ترا بادِ نسیم ہوں؟

 

پہلے تو فاصلے تھے بہت، لیکن اب نہیں

باشندگانِ طیبہ کا میں اب ندیم ہوں

 

کیسی سخن میں آئی ہے خوشبو یہ نعت کی

میں خود ہی مدحِ پاک کی گویا شمیم ہوں

 

عصیاں کا خوف دل کو رُلاتا ہے، پَر ’’اُمید‘‘

میں بھی تو اُمَّتیٔ رؤف الرَّحیم ہوں

 

مدحت نگار جب سے بنایا گیا مجھے

میں حاملِ نشانِ کلاہ و گلیم ہوں

 

ہر لفظ عاجزی کا مرقع تو ہے مگر

مدحت میں آکے کہتا ہے ’’میں بھی عظیم ہوں!‘‘

 

توفیقِ مدح پائی یہ کم تو نہیں عزیزؔ

خوش ہوں کہ میں بھی طورِ ثنا کا کلیم ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے
ہر طرف لب پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے
قرطاس دل پہ جب لکھا نغمہ رسول کا
من عرف نفسہ فقدعرف ربہ
صد شکر کہ پھر لب پہ محمد کی ثنا ہے
کیسے نہ بیتِ نعت میں خوشبو رچائے حرف
مستند ہے کہا ہوا تیرا

اشتہارات