خواب ترے جو دل کی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے

خواب ترے جو دل کی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے

شاید پلکوں پر اُمڈے یہ بادل چھٹ جاتے

 

میں کچّا رستہ وہ پکّی سڑکوں کا عادی

مجھ پر چلتا کیسے پاؤں دھول سے اَٹ جاتے

 

تم نے سوچا ہی کب اپنی انا سے آگے کچھ

ورنہ بیچ کے فاصلے گھٹتے گھٹتے گھٹ جاتے

 

صبح سویرے تیرے رستے میں جا بیٹھتے ہم

شام سمے تیرے پیچھے پیچھے پنگھٹ جاتے

 

آج احساس ہوا ہے اُس کی زندہ ضمیری کا

ورنہ اِک مفلس لڑکی کے کپڑے پھٹ جاتے

 

وہ ضدی تھا اپنی ضد پر اڑ جاتا اشعرؔ

اور ہم سچّے تھے اپنے موقف پر ڈٹ جاتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چُپکے سے اُترمجھ میں
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی

اشتہارات