اردوئے معلیٰ

خواب ترے جو دل کی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے

خواب ترے جو دل کی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے

شاید پلکوں پر اُمڈے یہ بادل چھٹ جاتے

 

میں کچّا رستہ وہ پکّی سڑکوں کا عادی

مجھ پر چلتا کیسے پاؤں دھول سے اَٹ جاتے

 

تم نے سوچا ہی کب اپنی انا سے آگے کچھ

ورنہ بیچ کے فاصلے گھٹتے گھٹتے گھٹ جاتے

 

صبح سویرے تیرے رستے میں جا بیٹھتے ہم

شام سمے تیرے پیچھے پیچھے پنگھٹ جاتے

 

آج احساس ہوا ہے اُس کی زندہ ضمیری کا

ورنہ اِک مفلس لڑکی کے کپڑے پھٹ جاتے

 

وہ ضدی تھا اپنی ضد پر اڑ جاتا اشعرؔ

اور ہم سچّے تھے اپنے موقف پر ڈٹ جاتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ