خواب ہی میں سہی وہ آئیں تو

خواب ہی میں سہی وہ آئیں تو

جھوم اٹھے زندگی وہ آئیں تو

 

دیکھتے دیکھتے یہ لگنے لگے

زندگی زندگی وہ آئیں تو

 

گلستاں سارا جھومنے لگ جائے

گل منائیں خوشی وہ آئیں تو

 

میرے آنگن میں سُکھ کا ڈیرہ ہو

دور ہو ہر غمی وہ آئیں تو

 

پوری ہو جائے آرزو دل کی

اتفاقاً سہی وہ آئیں تو

 

دیکھ لینا فسردہ چہروں پر

آئے گی تازگی وہ آئیں تو

 

جاں بلب ہوں اگرچہ میں تنویر

جی اٹھوں گا ابھی وہ آئیں تو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ