خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا

خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا

زباں خموش تھی دل محوِ التجاؤں میں تھا

 

درِ کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے

جو ملتزم پہ کھڑے تھے، میں ان گداؤں میں تھا

 

غلافِ خانۂ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں

خدا سے عرض و گزارش کی انتہاؤں میں تھا

 

فضائے مغفرت آثار میں تھا دل سرشار

مرا وجود خدا کے کرم کی چھاؤں میں تھا

 

حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب

جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاؤں میں تھا

 

طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا

جہانِ ارض و سما جیسے میرے پاؤں میں تھا

 

دھڑک رہا ہے مرے سازِ روح پر اب بھی

وہ ایک نغمہ جو ’’لبیک‘​‘​ کی صداؤں میں تھا

 

مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاؤں گا

کہ یہ سوال بھی شامل میری دعاؤں میں تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو
تُوں دُنیا دے باغ دا
خدا ہے روشنی جھونکا خدا ہے
نبی سے عشق میں روشن کیے اللہ نے میرے
اسم اللہ، میری جاگیر
اذانوں میں صلوٰتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم
خدا کی ذات پر ہر انس و جاں بھی ناز کرتا ہے
خدا موجود ہر سرِ نہاں میں
خداوندِ شفیق و مہرباں تو
خدا کا نام میرے جسم و جاں میں