اردوئے معلیٰ

خوش ہوں کہ میری خاک ہی احمد نگر کی ہے

خوش ہوں کہ میری خاک ہی احمد نگر کی ہے

مجھ پر نظر ازل سے شہ بحر و بر کی ہے

 

تابش میری نظر میں ہے اس رہگذار کی

جس پر نثار جلوہ فشانی قمر کی ہے

 

لب پر ہے بات خلق رسول کریم کی

آمد ریاض جاں میں نسیم سحر کی ہے

 

شاید کیا ہے یاد مجھے پھر حضور نے

پھر کیفیت عجیب میری چشم تر کی ہے

 

یاد نبی ہو منزل عقبی میں ساتھ ساتھ

میری بس ایک یافت یہی عمر بھر کی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ