دارالاماں یہی ہے حریمِ خدا کے بعد

 

دارالاماں یہی ہے حریمِ خدا کے بعد

ہم کس کے در پہ جائیں درِ مصطفیٰ کے بعد

 

پُر نور کتنا خاکِ مدینہ سے دل ہوا

آئینہ کیسا صاف ہوا ہے جلِا کے بعد

 

روزِ جزا سے قبل شفاعت کریں گے آپ

جنّت بھی آپ بخشیں گے روزِ جزا کے بعد

 

طیبہ ہے اس سخی دو عالم کا گھر جہاں

خالی کوئی فقیر نہ جائے صدا کے بعد

 

مجھ کو طلب نہیں ہے شرابِ طہور کی

تر ہے زباں مدحتِ خیرالوریٰ کے بعد

 

وہ جنگ جس کی بدر کے دن ابتدا ہوئی

وہ جنگ جا کے ختم ہوئی کربلا کے بعد

 

کام آئے گا ضرور محمد کا واسطہ

دل کو یقین اثر کا ہے اپنی دعا کے بعد

 

یوں تو فضا بہشت کی بھی جاں نواز ہے

کیا جی لگے مدینے کی آب وہوا کے بعد

 

ہم عاشقانِ آلِ محمد ہیں اے صبا

زندہ رہیں گے نام ہمارے فنا کے بعد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
واحد ہے تو تنہا ہے، تو ذات میں یکتا ہے
گدا کو دید کا شربت پلا دو یا رسول اللہ
جو بھی فدائی شہِ کون ومکاں ہوا

اشتہارات