اردوئے معلیٰ

Search

دامانِ کرم کے جو سہارے نہیں ہوتے

اچھے کبھی حالات ہمارے نہیں ہوتے

 

دنیا کی ہے رونق یہ حضور آپ کے دم سے

ورنہ یہ سمندر ، یہ کنارے نہیں ہوتے

 

کونین کے والی کا ہی صدقہ ہے یہ ورنہ

یوں ٹھاٹھ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے

 

ملتی نہ انہیں آپ کے چہرے کی تجلی

روشن یہ کبھی چاند ستارے نہیں ہوتے

 

عصیاں کے سمندر میں یونہی ڈولتے رہتے

سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے

 

اعمال تو لے جاتے ہمیں جانبِ دوزخ

گر چشمِ کرم کے یہ اشارے نہیں ہوتے

 

اس شخص کے ایمان کا دعویٰ بھی عبث ہے

سرکار جسے جان سے پیارے نہیں ہوتے

 

جنت میں سیادت کے بھلا کون تھا قابل

زہراؑ! جو تری آنکھ کے تارے نہیں ہوتے

 

پہنے جو جلیل ان کی غلامی کا قلادہ

دارین میں اس کو تو خسارے نہیں ہوتے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ