درود ان پر جو میرا موضوعِ گفتگو ہیں

درود ان پر جو میرا موضوعِ گفتگو ہیں

سلام ان پر جو حسنِ کامل ہیں خوبرو ہیں

 

درود ان پر جو ہیں مرے فکر و فن کے محور

سلام ان پر جو بے شبہ خشک و تر کے سرور

 

درود ان پر جو میری دھڑکن میں بس گئے ہیں

سلام ان پر کہ جن کو نیناں ترس گئے ہیں

 

درود ان پر جو روحِ قرآں میں جلوہ گر ہیں

سلام ان پر جو علم و حکمت کا مستقر ہیں

 

درود ان پر کہ جن کا ہر فعل معجزہ ہے

سلام ان پر کہ لطف ہی جن کا مشغلہ ہے

 

درود ان پر جو سن رہے ہیں کلامِ ناعت

سلام ان پر جو لے رہے ہیں سلامِ ناعت

 

درود ان پر جو روحِ ایمان جانِ دیں ہیں

سلام ان پر جو سب ہی کچھ ہیں خدا نہیں ہیں

 

درود ان پر جو رب کی تخلیقِ اولیں ہیں

سلام ان پر جو شاہکار اور آخریں ہیں

 

درود ان پر جو قلب و جاں کے نصاب میں ہیں

سلام ان پر کہ جن کے رتبے حجاب میں ہیں

 

درود ان پر شجر حجر جن کو مانتے ہیں

سلام ان پر جو بھید سینوں کے جانتے ہیں

 

درود ان پر کہ جن کے گیسو بھی مشکبو ہیں

سلام ان پر جو ابنِ آدم کی آبرو ہیں

 

درود ان پر جو ہیں شفاعت کے تاج والے

سلام ان پر جو ہیں دو عالم کے راج والے

 

درود ان پر کہ جن کی ہر آن جستجو ہے

سلام ان پر کہ جن کی ہر لب پہ گفتگو ہے

 

درود ان پر جو وجہِ تخلیقِ دو جہاں ہیں

سلام ان پر جو دونوں عالم کے سائباں ہیں

 

درود ان پر جبین جن کی ہے رشکِ خاور

سلام ان پر جو مصطفیٰ ہیں حبیبِ داور

 

درود ان پر ادب سکھایا ہے جن کا رب نے

سلام ان پر کہ جن کو سرور کہا ہے سب نے

 

درود ان پر جو رفعتوں کے امین بھی ہیں

سلام ان پر جو لامکاں کے مکین بھی ہیں

 

درود ان پر کہ جن کے الطاف بے کراں ہیں

سلام ان پر جو خوب مشفق ہیں مہرباں ہیں

 

درود ان پر کہ گوش ہیں بے مثال جن کے

سلام ان پر کہ خوب تر ہیں خصال جن کے

 

درود ان پر جو انبیاء کی دعاؤں میں ہیں

سلام ان پر جو دھڑکنوں کی صداؤں میں ہیں

 

درود ان پر کہ نام جن کا اذان میں ہے

سلام ان پر کہ ذکر ہر آسمان میں ہے

 

درود ان پر جو فہم و ادراک سے ورا ہیں

سلام ان پر جو کشتیٔ دل کے نا خدا ہیں

 

درود ان پر کہ جن کے ابرو ہِلال جیسے

سلام ان پر غلام جن کے بِلال جیسے

 

درود ان پر جو سائرِ لامکاں ہوئے تھے

سلام ان پر جو قاب قوسین تک گئے تھے

 

درود ان پر مقامِ محمود جن کا رتبہ

سلام ان پر کہ گنجِ عرفاں ہر ایک خطبہ

 

درود ان پر جو بعدِ خالق رفیع تر ہیں

سلام ان پر جو نور ہیں شوکتِ بشر ہیں

 

درود ان پر جو بے نواؤں کے ہمنوا ہیں

سلام ان پر جو غم کے ماروں کے مقتضا ہیں

 

درود ان پر کہ جن کی پلکیں بھی ہیں معطر

سلام ان پر کہ جن کی زلفیں بڑی معنبر

 

درود ان پر جو ایک دُر یتیم بھی ہیں

سلام ان پر یتیم پرور کریم بھی ہیں

 

درود ان پر حرا میں جن کی مہک رچی ہے

سلام ان پر کہ ثور بھی جن کا ملتجی ہے

 

درود ان پر کہ جن کی آنکھوں نے رب کو دیکھا

سلام ان پر کہ چشمِ رحمت سے سب کو دیکھا

 

درود ان پر کہ وہ ہی مقصودِ کن فکاں ہیں

سلام ان پر جو عاصیوں پر بھی مہرباں ہیں

 

درود ان پر جو ماحیٔ درد و رنج و غم ہیں

سلام ان پر غلام بھی جن کے محترم ہیں

 

درود ان پر کہ جن کی بینی حسین، ستواں

سلام ان پر ہوئے تھے جو لامکاں کے مہماں

 

درود ان پر جو شہرِ علم اور آگہی ہیں

سلام ان پر جو سر بسر ایک روشنی ہیں

 

درود ان پر جو بہرِ امت حرا میں روئے

سلام ان پر جو عاصیوں کے لئے نہ سوئے

 

درود ان پر کہ جن کے عارض قمر سے برتر

سلام ان پر کہ خلق جن کا ہے سب سے بہتر

 

درود ان پر جو دو جہانوں کی زندگی ہیں

سلام ان پر جو سارے نبیوں میں آخری ہیں

 

درود ان پر کہ جن کی صورت ہے پیاری پیاری

سلام ان پر کہ بس وہی ہیں حبیبِ باری

 

درود ان پر کہ جن کی رنگت کھلی کھلی ہے

سلام ان پر کہ جن کو ہر سروری ملی ہے

 

درود ان پر کہ رخ ہے روشن کتاب ان کا

سلام ان پر نہیں ہے کوئی جواب ان کا

 

درود ان پر جو روحِ عالم شہِ عرب ہیں

سلام ان پر جو دو جہانوں کی تاب و تب ہیں

 

درود ان پر کہ جن کے ہونٹوں میں دل کشی ہے

سلام ان پر کہ جن سے پھولوں میں تازگی ہے

 

درود ان پر کہ جن کی راہیں بھی ہیں معطر

سلام ان پر حریص جن کے ہیں مشک و عنبر

 

درود ان پر کہ ان کا دیدار زندگی ہے

سلام ان پر کہ ان کا اسوہ ہی روشنی ہے

 

درود ان پر کہ دُرِ نایاب جن کے دنداں

سلام ان پر دہن ہے جن کا خزانِ عرفاں

 

درود ان پر جو نرم لہجے میں بولتے ہیں

سلام ان پر جو شہد کانوں میں گھولتے ہیں

 

درود ان پر جو میرے دستِ سوال میں ہیں

سلام ان پر جو میرے ہر اک خیال میں ہیں

 

درود ان پر زبان جن کی ہے کن کی کنجی

سلام ان پر کہ وہ جو کہہ دیں وہ رب کی مرضی

 

درود ان پر کہ جن پہ نازل ہوا ہے قرآں

سلام ان پر کہ جن کا ہر قول روحِ عرفاں

 

درود ان پر کہ جن کے لہجے میں انگبیں ہے

سلام ان پر کہ جن کی ہر اک ادا حسیں ہے

 

درود ان پر بشیر بھی ہیں نذیر بھی ہیں

سلام ان پر کہ جو سراجِ منیر بھی ہیں

 

درود ان پر جو ہیں مکینِ دیارِ اطہر

سلام ان پر جو رب کے انوار کے ہیں مظہر

 

درود ان پر سیاہ، گہری تھی ریشِ اطہر

سلام ان پر جو خلق میں ہر کسی سے برتر

 

درود ان پر جو اپنی امت کو چاہتے ہیں

سلام ان پر جو ربِ سلم پکارتے ہیں

 

درود ان پر کہ جن کو کوثر عطا ہوا ہے

سلام ان پر جنہیں فترضیٰ کہا گیا ہے

 

درود ان پر کہ جن کی چوکھٹ کے ہم گدا ہیں

سلام ان پر جو ہم فقیروں کا آسرا ہیں

 

درود ان پر امین و صادق ہے جن کی شہرت

سلام ان پر کہ جودِ پیہم ہے ان کی عادت

 

درود ان پر کہ خوب روشن ہے ان کی گردن

سلام ان پر کہ مشک و عنبر ہے ان کا دھوون

 

درود ان پر جو وجہِ تخلیقِ دو جہاں ہیں

سلام ان پر جو دونوں عالم کے سائباں ہیں

 

درود ان پر لعاب جن کا شفائے کامل

سلام ان پر کہ سب خزانے ہیں ان کو حاصل

 

درود ان پر کہ سینہ ابھرا ہوا کشادہ

سلام ان پر غذا تھی نانِ شعیر سادہ

 

درود ان پر کہ مہر کاندھوں کے درمیاں میں

سلام ان پر کہ ہم ہیں ان ہی کے سائباں میں

 

درود ان پر کہ قد مبارک تھا درمیانہ

سلام ان پر کہ ان سے ملتا ہے آب و دانہ

 

درود ان پر ہتھیلیاں تھیں گداز ان کی

سلام ان پر کہ انگلیاں تھیں دراز ان کی

 

درود ان پر یدِ الہ جن کا دستِ عالی

سلام ان پر وہ ذات کتنی ہے شان والی

 

درود ان پر وہ چھو کے زرناب کرنے والے

سلام ان پر وہ سب کو سیراب کرنے والے

 

درود ان پر کہ پائے اقدس ہیں جن کے نوری

سلام ان پر ادب ہے جن کا بہت ضروری

 

درود ان پر جو حسنِ بے مثل ہیں سراسر

سلام ان پر فریفتہ ہے جہان جن پر

 

درود ان پر کہ جن کے تلوے ہیں ماہِ تاباں

سلام ان پر کہ جن کے نعلین تاجِ شاہاں

 

درود ان پر پسینہ بھی مشکبار جن کا

سلام ان پر جناں کا پرتو دیار جن کا

 

درود ان پر جو حشر میں سجدہ ریز ہوں گے

سلام ان پر جو پل پہ بھی مشک بیز ہوں گے

 

درود ان پر جو چاند سورج پہ حکمراں ہیں

سلام ان پر کہ جن کے الطاف بے کراں ہیں

 

درود ان پر کہ ان کی آواز پر کشِش تھی

سلام ان پر کہ سب پہ لطف و کرم رَوِش تھی

 

درود ان پر جو سارے نبیوں کے رہنما ہیں

سلام ان پر جو سب رسولوں کے مقتدا ہیں

 

درود ان پر کہ جن سے رونق ہے دو جہاں میں

سلام ان پر کہ جن کی الفت ہے قلب و جاں میں

 

درود ان پر کہ شاہزادی ہیں جن کی زینب

سلام ان پر نبی کی بیٹی ہے جن کا منصب

 

درود ان پر رقیہ بی بی ہیں جن کی دختر

سلام ان پر جو نور تھیں اور آلِ اطہر

 

درود ان پر جو ام کلثوم کے ہیں بابا

سلام ان پر کہ جن کے بابا ہیں سب کے ملجا

 

درود ان پر جو پارۂ جانِ مصطفیٰ ہیں

سلام ان پر جو امِ حسنین فاطمہ ہیں

 

درود ان پر کہ نامِ نامی ہے جن کا قاسم

سلام ان پر جو ابنِ احمد ہیں آلِ ہاشم

 

درود ان پر کہ اسمِ طیب ہے جن کا طاہر

سلام ان پر کہ کم ہے جن کی حیاتِ ظاہر

 

درود ان پر جو تیسرے ابنِ مطہر تھے

سلام ان پر کہ نام بالا ہے اس بحر سے

 

درود ان پر جو بیبیاں ہیں ہماری مائیں

سلام ان پر کہ نام سن لیں تو سر جھکائیں

 

درود ان پر کہ نور ہے جن کی آل ساری

سلام ان پر کہ نور ہے جن کے گھر سے جاری

 

درود ان پر کہ جن کی ارفع ہے شان و شوکت

سلام ان پر کہ نور ہے جن کی ساری عترت

 

درود ان پر کہ جن کے اصحاب ہیں ستارے

سلام ان پر جو روشنی کے ہیں استعارے

 

درود ان پر کہ جن کے پہلو میں بو بکر ہیں

سلام ان پر کہ جن کو مانگا تھا وہ عمر ہیں

 

درود ان پر حیا کے پیکر ہیں وہ غنی ہیں

سلام ان پر جو بابِ علم اور آگہی ہیں

 

درود ان پر شبیہِ سرور حسن، حسن ہیں

سلام ان پر حسینِ عالی جو گلبدن ہیں

 

درود ان پر کہ جن کے بچوں نے سر کٹائے

سلام ان پر جو سر کٹا کر بھی مسکرائے

 

درود ان پر کہ چاند تاروں میں جن کی ضو ہے

سلام ان پر کہ جن کا اشفاق نعت گو ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دیارِ طیبہ میں کچھ مسافر کرم کی لے کر ہوس گئے ہیں
اگر وہ دیکھ لیں مجھ کو جو اک نظر بھر کے
بے بسوں بے کسوں کی دعا مصطفیٰ
مصطفیٰؐ کے کوچے میں نور کے بسیرے ہیں
حشر میں بھی یہ بھرم میرا بنائے رکھنا
مرکزِ علم و فکر و حقیقت
آپ ہیں کون و مکاں کی زندگی
یومِ میلادِ حضرتؐ پہ لاکھوں سلام
شانِ محبوبِ وحدت پہ لاکھوں سلام
لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے

اشتہارات