اردوئے معلیٰ

Search

درِ غلامِ محمد پہ جب جل رہا ہے چراغ

ہوا کے دوش پہ بھی کتنا پر ضیا ہے چراغ

 

جو پوچھے ظلمتِ شب سے کوئی کہ کیا ہے چراغ

بڑے ادب سے وہ کہتی ہے مصطفےٰ ہے چراغ

 

ضیائیں کی تو ہیں تقسیم انبیا نے مگر

مرے نبی پہ جو اترا وہی بڑا ہے چراغ

 

ہجوم کیسے نہ ہو چار سو پتنگوں کا

بڑی ہی شان سے محفل میں جل رہا ہے چراغ

 

ضیا سے جس کے ، منور ہیں مہر و ماہ و نجوم

خدا کا شکر ، ہمارا وہ رہنما ہے چراغ

 

درود لب پہ ہے عادِل نہ کر تلاشِ ضیا

چراغ لے کے بھلا کوئی ڈھونڈتا ہے چراغ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ