درگزر کر مری خطا مولا

درگزر کر مری خطا مولا

مجھ کو تیرا ہی آسرا مولا

 

درد مندوں کا درد دے مجھ کو

تجھ سے میری یہی دعا مولا

 

تیری وحدت پہ میری موت آئے

ہے اسی میں مری بقا مولا

 

صلہ رحمی کے راستے پر ڈال

ہم کو غفلت سے تو جگا مولا

 

تیرے بندوں کو تیری رحمت سے

تیرے رستے پہ ہی چلا مولا

 

غیر سے کیا ملے گا بندے کو

مانگتا ہوں تری عطا مولا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دیار ہجر میں شمعیں جلا رہا ہے وہی
فلک میں حدّ ِ نظر لا اِلہ الہ اللہ
لحد چاہوں مدینے میں خدا، تیری عبادت میں
خدا کا اسم، اسمِ دلکشا ہے
خدا کی یاد سے پہلے وضو اشکوں سے کرتا ہوں
خدا کے فضل سے ہر دم مرا دامن بھرا ہے
جو انسانوں کا ناحق خوں بہائے
خدا واحد، خدا ممتاز و اعظم
رسائی خلق کی رب تک نہ ہو گی
جو دل ذکرِ خدا سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے