دشت ہے کل جہاں سائباں آپ ہیں

دشت ہے کل جہاں سائباں آپ ہیں

یا نبی رحمتِ بیکراں آپ ہیں

 

قریۂ جاں منور ہوا آپ سے

تیرگی میں مرے پاسباں آپ ہیں

 

بے صدا عرصۂ آگہی کے لیے

حق و صدق وفا کی اَذاں آپ ہیں

 

آپ ہیں واقفِ سرِّ توحید بھی

شاہدِ لمحۂ کن فکاں آپ ہیں

 

آپ ہیں طورِ عرفانِ انسانیت

منبعِ علم بھی بے گماں آپ ہیں

 

ظلم کی دھوپ میں رحمتِ بحر و بر

ہیں تو انسانیت کی اماں آپ ہیں

 

سخت مشکل میں ہے اب عزیزؔ آپ کا

یا نبی ! والیِ بے کساں آپ ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ