دل ، کہ اک عالمِ تنویم کا معمول ہوا

دل ، کہ اک عالمِ تنویم کا معمول ہوا

منتظر ہے کہ ترے اذن سے جاگے، دھڑکے

 

سانس لینے لگے آنچل کے سبھی تار ترے

عشق کے لمس سے ملبوس کے دھاگے، دھڑکے

 

رات پہلی ہے پر اسرار جزیرے پہ ابھی

اور یہ دل ہے کہ حلقوم سے آگے، دھڑکے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ