دُعا

سوچ پگڈنڈیوں پر رواں راگنی
بے سکونی کے عالم میں اکثر،
نمازوں کے بعد
اِک تجھے بھولنے کی
دعا مانگتا ہوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چُپکے سے اُترمجھ میں
باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپؐ سے
نہ میں موم ہوں اور نہ وہ سنگ ہے
تتلی سی کوئی پنکھ کی چادر سے اُڑی ہے
تخلیق کا وجود جہاں تک نظر میں ہے
سُن لیا چشمِ تر کی نمی کے سبب
خسارہ بھی اگر ہو منفعت کہنا
کچی عمر کی چاہت
امداد
ہے گذارش میری ذاتِ کبریا کے سامنے

اشتہارات