دھوم ہر سمت جشنِ ولادت کی دھوم

 

دھوم ہر سمت جشنِ ولادت کی دھوم

آمدِ شمعِ فخرِ رسالت کی دھوم

 

ہر طرف سلسلۂ درود و سلام

ہر جگہ آپؐ کی شانِ رحمت کی دھوم

 

اُنؐ کے در سے ہوا رد نہ کوئی سوال

اُنؐ کے دم سے ہے جود و سخاوت کی دھوم

 

قرن بھی جن کے تھے منتظر ، آگئے

پھیلی ہے ہر طرف اُنؐ کی بعثت کی دھوم

 

آپؐ نے کردیئے ختم لات و منات

آپؐ کے دم سے قائم ہے وحدت کی دھوم

 

ہر طرف ، ہر کہیں ، ہر جگہ مرتضیٰؔ

ہے اُسیؐ ایک ماہِ ہدایت کی دھوم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات