دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض

دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض

نور حق کی تابش سے، روشن آپ کے عارض

 

آپ کا حسیں پیکر، کائنات کا زیور

نقرئی سراپا ہے، کندن آپ کے عارض

 

رنگ، روشنی، خوشبو، پھول، تتلیاں، جگنو

حسن کے حوالے ہیں، مخزن آپ کے عارض

 

وہ بھی کیا زمانہ تھا، عاشقوں کے نینوں کو

آٹھوں پہر دیتے تھے، درشن آپ کے عارض

 

کاش میں جنم لیتا، آپ کے زمانے میں

دیکھتے بِتا دیتا، جیون آپ کے عارض

 

روئے آدمیت پر، غازہ آپ کا اسوہ

اور دید کو اس کی، درپن آپ کے عارض

 

عشق کا مزا جب ہے، آنکھ کو دکھائی دیں

شرقاً آپ کے عارض، غرباً آپ کے عارض

 

ڈھونڈنے کوئی نکلے، بے مثال رعنائی

آئیں گے تصور میں، فوراً آپ کے عارض

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات