اردوئے معلیٰ

دیار ہجر میں شمعیں جلا رہا ہے وہی

دیار ہجر میں شمعیں جلا رہا ہے وہی

مجھے وصال کا مژدہ سنا رہا ہے وہی

 

وہ بے نشاں ہے مگر پھر بھی اپنی قدرت کے

نشاں ہزارہا ہر سو دکھا رہا ہے وہی

 

اسی کی ذات مری دستگیر ہے ہمہ حال

ہر ابتلا میں مرا آسرا رہا ہے وہی

 

ہزار ماؤں کی ممتا سے بھی وہ بڑھ کر ہے

کہ دے کے تھپکیاں ہر شب سلا رہا ہے وہی

 

نوید وصل وہی دیتا ہے فراق کے بعد

بچھڑنے والوں کو پھر سے ملا رہا ہے وہی

 

سمایا ہے میری رگ رگ میں وہ لہو کی طرح

مری تمنا، مرا مدعا رہا ہے وہی

 

قریب تر ہے رگ جاں سے ذات پاک اس کی

حریم ذات سے مجھ کو بلا رہا ہے وہی

 

وہ اپنے ذکر سے مہکائے جان و دل میرے

مرا خرابہ گلستاں بنا رہا ہے وہی

 

پکارتا ہے مجھے دھیان کے دریچوں سے

مرے شعور کو نیر جگا رہا ہے وہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ