اردوئے معلیٰ

دے مجھے توفیقِ مدحت ، رکھ مری حیرت کی لاج

دے مجھے توفیقِ مدحت ، رکھ مری حیرت کی لاج

اے کرم خُو ، جُود پرور ، عفو زا ، رحمت مزاج !

 

کس قدر بہجت فزا ہے نعت ہونے کا عمل

شوق میں ہوتا ہے جب حرفِ عطا کا امتزاج

 

شاہِ دیں کے منطقے میں ہے عجب اوجِ نمو

سنگ و خشتِ رہ گزر ہیں باعثِ رشکِ زجاج

 

مدحتِ شاہِ اُمم سے معتبر ہیں فکر و فن

حرف خود ہے داد پروَر ، شوق خود ہے ابتہاج

 

جانتا ہُوں آپ کے شایاں نہیں ہو گی ، مگر

کچھ سوا مائل بہ مدحت ہیں مرے افکار ، آج

 

ساکت و صامت پڑے ہیں بارگاہِ ناز میں

میرے جذبوں کی عقیدت ، میرے حرفوں کا اخراج

 

دن کے دامن میں فروزاں ہیں تری چاہت کے رنگ

شام ہوتے ہی نکھرتا ہے تری طلعت کا راج

 

مندمل ہوتا گیا ہے سب کا سب کربِ دروں

آپ کی مدحت نے کب رہنے دیا ہے لاعلاج

 

جا بُجھے جوفِ فنا میں کبر و نخوت کے شرر

بارہویں کی صبح جب روشن ہوا مہرِ وہاج

 

آئی ہے مقصودؔ شہرِ ناز پروَر سے نوید

خیر سے ، تسکیں میں ہے اب میرے دل کا اختلاج

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ