اردوئے معلیٰ

Search

ذاتِ قدیم صاحبِ ہر فخر و ناز ہے

ستار ہے ، صمد ہے ، وہی بے نیاز ہے

 

رہتا ہے مہربان دوعالم پہ ہر گھڑی

میرا خدا کریم ہے ، بندہ نواز ہے

 

جھکتے ہیں اُس کے آگے ملک بھی رسول بھی

سارا اُسی کے واسطے عجز و نیاز ہے

 

نغمہ سرائے حمد ہے بارش کی بوند بوند

دستِ صبا میں اس کی عقیدت کا ساز ہے

 

جلوہ گری اُسی کی ہے نرگس کی آنکھ میں

اُس کے کرم سے کاکلِ سنبل دراز ہے

 

وہ کھولتا ہے گنبدِ بے در میں کھڑکیاں

دنیا میں اس کا لطف بلا امتیاز ہے

 

پاتا ہے ذاتِ حق سے وہ توفیق نعت کی

شہزاد اُس کے فضل سے جو سرفراز ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ