اردوئے معلیٰ

Search

ذرہ ذرہ زمیں کا درخشاں ہوا

جس گھڑی جلوہ گر ماہِ تاباں ہوا

 

نُور اوّل کی آمد ہوئی جس گھڑی

سارے عالم میں گھر گھر چراغاں ہوا

 

کھل گئے بخت اس کو سعادت ملی

جو بھی شہرِ مدینہ کا مہماں ہوا

 

حاضری کا مجھے بھی شرف مل گیا

خوش مقدر ہوں پورا یہ ارماں ہوا

 

حجرۂ دل کی خوش بخت دیوار پر

نامِ احمد ازل سے فروزاں ہوا

 

کر رہی ہوں ثنا روز و شب آپ کی

مجھ پہ میرے خدا کا یہ احساں ہوا

 

جس کے دل میں محبت ہے سرکار کی

بس اُسی کا ہی کامل ہے ایماں ہوا

 

بزمِ میلاد گھر میں سجاتی رہی

گھر کا ہر ایک گوشہ فروزاں ہوا

 

آلِ زہرہ کی مجھ کو غلامی ملی

ناز بخشش کا تیری یہ ساماں ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ