عزیز صفی پوری کا یومِ وفات

آج معروف کلاسیکل شاعر عزیز صفی پوری کا یومِ وفات ہے ۔

عزیز صفی پوری(پیدائش: 8 مارچ 1843ء – وفات: 2 جولائی 1928ء)
——
عزیز صفی پوری کا اصل نام ولایت علی خاں اور عزیزؔ تخلص تھا ۔ عزیز صفی پوری کی ولادت 6 صفر 1259 عیسوی کو صفی پور اپنے ننھیال میں ہوئی ۔
مولوی محمد رضا صاحب بانگر مؤی نے آپ کو تعلیم دی اور صرف و نحو کی کتابیں زبانی یاد کروائیں ۔
دو چار کتابیں فارسی میں پڑھائیں ۔ پندرہ برس کی عمر تک آپ تعلیم کی غرض سے لکھنؤ میں رہے ۔
حضرت عزیز نے اپنی سوانح اسلاف میں لکھا ہے کہ ” جس دن میں صفی پور میں آیا ، سہہ پہر کو والد ماجد کے ساتھ حضرت مرشد پاک شاہ خادم صفی محمدی کے حضور میں حاضر ہوا ۔ آپ نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا ۔ وہ نگاہ میرے دل میں اُتر گئی ۔
کسبِ معاش میں سندیلہ اور کانپور میں رہے محمد عزیز اللہ نام بھی مرشد نے رکھا ۔
7 روپے ماہوار پر عمر گذار دی لیکن پیر کے در کو مضبوطی سے پکڑا اور مر کر بھی در نہ چھوڑا ۔
پہلی تصنیفات میں آپ ولایتؔ تخلص فرماتے تھے لیکن جب آپ کے مرشد نے آپ کو فقیر بنایا اور عزیز اللہ شاہ نام رکھا تو آپ نے اپنا تخلص بھی بدل ڈالا اور عزیزؔ تخلص کر دیا۔
حضرت عزیز کے حالات اور خیالات اور آپ کے کلام میں جو چیز نمایاں اور بدرجہ اتم جگمگاتی ہے وہ وہ آپ کی صدیقیت ، محویت ، فنائیت ، اور شیدائیت ہے جو آپ کو محبتِ رسول اور صدق پیغمبر سے حاصل ہے ۔
حضرت کو تصنع اور نمود سے نفرت تھی اور یہ لازمۂ فقیری ہے ۔ چنانچہ اس عہد کے لکھنؤ میں رہ کر جو واجد علی شاہ کا رنگیلا عہد کہلاتا ہے اور جو حزنؔ کے معاصرین کا دور تھا ، حضرت عزیز نے لکھنوی رنگ قبول نہ کیا ۔
رعایتِ لفظی کا شوق جو اس عہد میں دیوانگی کی حد تک پہنچ گیا تھا اُن کے یہاں بالکل بھی نہیں ہے ۔
نہ محاورہ بندی ، تشبیہہ و استعارہ و کنایہ میں زورِ بیان صرف ہوا ہے بلکہ صاف صاف دل کی کیفیات ہیں جن کو شعر کے پردے میں ظاہر فرمایا ہے ۔
ہاں لکھنوی زبان بیشک ” کوثر و تسنیم ” میں دھلی ہوئی ملتی ہے ۔ بحریں شگفتہ ، زبان آسان اور جذبات تہ دار ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : صفی لکھنوی کا یوم پیدائش
——
اس لیے بلاشبہہ ان کی شاعری میں وہ تیز نشتر ملتے ہیں جن کی تلاش اربابِ بصیرت کے استادوں کے کلام میں ہوتی ہے ۔
عموماََ دیکھا جاتا ہے کہ غزلوں میں تسلسل خیال نہیں ہوتا مگر عزیز کا کلام اس سے پاک ہے ۔ ایک ہی مرکزی خیال پوری پوری غزلوں میں آشکار ہے ۔
وحدت کی شان اور صدیقیت کی آن رو بہ کار ہے اور اسی کے ساتھ انوکھے قافیے لائے ہیں جنہیں اپنا لیا ہے اور یہ قادر الکلامی کی دلیل ہے ۔
عزیز صفی پوری نے اپنی ساری عمر اس طور پر صدق پیغمبر اور نعتِ رسول میں گذاری جیسا کہ خود فرماتے ہیں :
——
حق پرستی کے یہی ہیں دو نشان
سنئے کچھ ذکرِ صنم یا دیکھیے
——
اور اپنی محویت کے عالم کا یوں اظہار فرماتے ہیں :
——
عزیزؔ اس پارسائی پر بہارِ مے پرستی میں
تکلف دور ہو جاتا ہے جب پیمانہ آتا ہے
——
اور یہی نہیں بلکہ یوں سعادت آخرت پر داعی اور لبیک ہیں ، فرماتے ہیں :
——
پھر تو ہو جائیگی قربان اجل مجھ پہ عزیزؔ
وہ دمِ نزع اگر میرے سرہانے آئے
——
حضرت عزیز صفی پوری نے 88 سال کی عمر میں 13 محرم الحرام 1347 عیسوی اس جسد عنصری کو چھوڑا اور ہم سے مفارقت ظاہر فرمائی ۔
آپ امیروں میں پیدا ہوئے ، فقیروں میں پلے اور شاہوں میں گذرے یعنی محمد عزیز اللہ شاہ مشہور ہوئے اور وہ نعمتِ لازوال آپ کو حاصل ہوئی جو ہمیشہ کشتگانِ تسلیم و رضا کو سیراب کرتی رہے گی ۔
——
منتخب کلام
——
نورِ احمد کی حقیقت ہے یہ جو کچھ ہے عزیزؔ
حق کو منظور اسی شکل میں اظہار ہوا
——
مجھ سے ناچیز کو عزیزؔ اُس نے
اپنی رحمت سے پاکباز کیا
——
وہی سب جگہ جلوہ گر ہے عزیزؔ
جو سمجھا درِ یار کا ہو رہا
——
شور ظہور اسی نے اٹھایا ہے عشق سے
پنہاں احد کی ذات میں احمد کا میم تھا
نورِ محمدی کی تجلی تھی ہر طرف
جس دم نہ تھا کلیم نہ طورِ کلیم تھا
——
محمد سے جدا ہو کر خدا کو کس نے پہچانا
بیاں کر مجھ سے اے زاہد اگر جانا تو کیا جانا
——
جو وہ پوچھتے کرم سے کہ عزیزؔ تُو کہاں تھا
میں خوشی سے پُھول جاتا غمِ دل ہزار ہوتا
——
کس میں ہے یہ کرامتِ معجز نما عزیزؔ
تر دامنی کے ساتھ خدا سے ملا دیا
——
عزیزؔ اس کی اطاعت ہے خدائے پاک کی طاعت
وہی اللہ کا بندہ ہے جو بندہ ہے محمد کا
——
فرقت سے اشکبار ہوں یا احمد الغیاث
مدت سے دلفگار ہوں یا احمد الغیاث
آنکھوں سے چل کے آؤں اگر حکم دیجیے
بیخود ہوں بیقرار ہوں یا احمد الغیاث
——
کیا رنگ دکھاتی ہے محمد کی تجلی
آتا ہے نظر چاروں طرف روئے محمد
——
توحید تری شان ہے اے صاحبِ لولاک
بیشک یہی عرفان ہے اے صاحبِ لولاک
تو عشق کا عنوان ہے اے صاحبِ لولاک
کیا نور کا سامان ہے اے صاحبِ لولاک
دیکھوں تجھے اور تیرے سوا کچھ بھی نہ دیکھوں
ہر دم یہی ارمان ہے اے صاحبِ لولاک
کیونکر نہ وہ سمجھے تجھے یکتائے دو عالم
جو دل سے مسلمان ہے اے صاحبِ لولاک
باقی ہے ترے نور سے اور فانی ہے تجھ میں
جو جسم ہے جو جان ہے اے صاحبِ لولاک
کافر ہوں جو سمجھوں جدا تجھ کو خدا سے
میرا یہی ایمان ہے اے صاحبِ لولاک
عارف ہے جسے تیری حقیقت پہ نظر ہے
انساں وہی انسان ہے اے صاحبِ لولاک
تو خلد میں ہے اور ترا نور جہاں میں
الآن کما کان ہے اے صاحبِ لولاک
کیا غم تری امت کو قیامت کی بلا سے
تو آپ نگہبان ہے اے صاحبِ لولاک
تو رحمتِ علام ہے ترا شکر کہاں تک
احسان پر احسان ہے اے صاحبِ لولاک
تیرا رُخِ روشن ہے تجلی کی تجلی
قرآن کا قرآن ہے اے صاحبِ لولاک
——
فانی ہوا میں عشقِ رسالت مآب میں
گم ہو کے روزِ حشر نہ آیا حساب میں
کیونکر چھپائیں منہ کو وہ کُن کی نقاب میں
کرتی ہے رخنہ حسن کی شوخی حجاب میں
احمد کہوں ادب سے انہیں یا کچھ اور ہی
ڈالا ہے مجھ کو دل نے عجب اضطراب میں
آتا ہے ان کے دیکھنے والوں کو غش پہ غش
ہر گز یہ بیخودی نہیں مستِ شراب میں
دکھلا رہے ہیں ان کے مظاہر عجب طلسم
دریا میں ہے حباب تو دریا حباب میں
چاروں طرف سے نورِ الہٰی محیط ہے
کیسے بسے ہیں وہ دلِ خانہ خراب میں
دل لیکے مجھ سے حضرتِ خادم نے اے عزیزؔ
پہونچا دیا رسولِ خدا کی جناب میں
——
کیا رُخِ سیدِ ابرار ہے اللہ اللہ
ہر طرف جلوۂ دیدار ہے اللہ اللہ
جب سے نرگس کو نظر آئی ہے وہ چشمِ سیاہ
جوشِ آشوب سے بیمار ہے اللہ اللہ
خاک پاک قدمِ پاکِ رسولِ عربی
سرمۂ دیدۂ بیدار ہے اللہ اللہ
کیوں نہ خلد میں مسجودِ ملائک آدم
عاشقِ احمدِ مختار ہے اللہ اللہ
گر جز لیں وہ تو ہر گز نہیں رحمت سے بعید
اب تو دل غم سے بہت بیزار ہے اللہ اللہ
جس نے دیکھا انہیں اور جان کے پہچان لیا
بس وہی محرمِ اسرار ہے اللہ اللہ
اونکی فرقت میں جو آنکھوں سے بہے خوں ہو کر
جان اس دل کی طبگار ہے اللہ اللہ
کیا عجب دل سرگشتہ کو سودا ہے عزیزؔ
اونکی کاکل میں گرفتار ہے اللہ اللہ
——
ہر سمت میں ہے تو جلوہ نما اے نور محمد صلی اللہ
آفاق کو تو نے گھیر لیا اے نور محمد صلی اللہ
دکھلا کے چمک بالائے فلک آدم کو کیا مسجود ملک
موسیٰ کو بنایا انی انا اے نور محمد صلی اللہ
تو سب میں نہاں سب تجھ سے عیاں ہے تیرے لئے یہ کون و مکاں
باہر ہے بیاں سے تیری ثنا اے نور محمد صلی اللہ
تنزیہہ تو ہی تشبیہ تو ہی ہر وجہ سے ہے توجیہہ تو ہی
ہے تیری صفت لولاک لما اے نور محمد صلی اللہ
ہر حسن ادا ہے تیری ادا ہے تیری حقیقت کن سے جدا
عاشق ہے تری صورت پہ خدا اے نور محمد صلی اللہ
جب تو نے دکھایا روئے حسیں ارواح جہاں مرآت بنیں
موجود ہوئے یہ ما و شما اے نور محمد صلی اللہ
آغاز تو ہے انجام تو ہے ایمان تو ہی اسلام تو ہے
ہے تجھ پہ عزیزؔ خستہ فدا اے نور محمد صلی اللہ
——
کوئی ہے مومن کوئی ہے ترسا خدا کی باتیں خدا ہی جانے
عجب طرح کا ہے یہ تماشہ خدا کی باتیں خدا ہی جانے
کوئی جو سمجھے تو کیسے سمجھے بہت بڑے ہیں غضب کے دھوکے
کہیں ہے بندہ کہیں ہے مولیٰ خدا کی باتیں خدا ہی جانے
کہیں انا الحق وہ آپ بولا فقیر بن کر یہ بھید کھولا
کہیں بنا ہے وہ آپ بھولا خدا کی باتیں خدا ہی جانے
ہر ایک شے کا وہی ہے باطن ہر ایک شے سے وہی ہے ظاہر
مگر وہ ہر شے سے ہے نرالا خدا کی باتیں خدا ہی جانے
کہیں بنا ہے عزیزؔ خادم کہیں جو دیکھا تو وہ صفیؔ ہے
غرض یہ فتنے کئے ہیں برپا خدا کی باتیں خدا ہی جانے
——
کھلا بھید خیر الوریٰ کہتے کہتے
ہوا میں فنا مصطفیٰ کہتے کہتے
مرے منہ سے آنے لگی بوئے نافہ
تری زلف کو مُشک سا کہتے کہتے
گئے آدم و شیث و موسیٰ و عیسیٰ
تجھے خاتم النبیاء کہتے کہتے
شعائیں ہوئیں میری باتوں سے پیدا
ترے منہ کو شمس الضحیٰ کہتے کہتے
زیادہ ہوئی عقلِ کل کی بصیرت
تری شان میں ماطغا کہتے کہتے
کہا دل میں جب حالِ دل ان کے آگے
ہوا یہ کہ بے خود ہوا کہتے کہتے
عزیزؔ آرزو ہے کہ جب مرگ آئے
دم آخر ہو صلِ علیٰ کہتے کہتے
——
حوالہ جات
——
تحریر : محمد خصلت حسین صابری از انتخابِ کلامِ اردو : عرفان عزیز
2 ستمبر 1946 ء ، شائع شدہ 1945 ء ، صفحہ نمبر 9 تا 28
شعری انتخاب : متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ