اردوئے معلیٰ

ذرۂ ناچیز خاکِ کفشِ پائے مصطفیٰ

ہے بہ توفیقِ خدا مدحت سرائے مصطفیٰ

 

صورتِ پُر نور و حسنِ دلربائے مصطفیٰ

قامتِ موزون و قدِ دل کشائے مصطفیٰ

 

عرشِ اعظم اللہ اللہ فرشِ پائے مصطفیٰ

کون پہنچا ہے وہاں تک ماسوائے مصطفیٰ

 

مستجابِ بارگاہِ حق دعائے مصطفیٰ

مقتضائے ربِ عالم مقتضائے مصطفیٰ

 

رہبری کے واسطے ہے نقشِ پائے مصطفیٰ

روح کی تسکیں کو قولِ جاں فزائے مصطفیٰ

 

ساری دنیا ان کی تعلیمات سے روشن ہوئی

چار سو عالم میں پھیلی ہے ضیائے مصطفیٰ

 

نام اس کا رکھ دیا خالق نے قرآنِ مبیں

جب ہوا مستجمعِ جملہ ادائے مصطفیٰ

 

دلکشا منظر یہ دکھلایا شبِ معراج نے

انبیاء ہیں صف بہ صف در اقتدائے مصطفیٰ

 

بخششِ امت کی خاطر ان کی شب بیداریاں

بارگاہِ رب میں شب بھر التجائے مصطفیٰ

 

ہے وسیلہ میری بخشش کا انہیں کا تذکرہ

آنکھ کا سرمہ ہے میری خاکِ پائے مصطفیٰ

 

کون سمجھا ہے شرف ان کا کہ تو سمجھے نظرؔ

ذات اک اللہ کی ذات آشنائے مصطفیٰ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات