اردوئے معلیٰ

ذکرِ سرکار سے ہے فضا مطمئن

ذکرِ سرکار سے ہے فضا مطمئن

پھول، خوشبو، چمن اور ہَوا مطمئن

 

بھیج کر ذاتِ والا پہ پیہم درود

ہیں گدائے شہِ دوسرا مطمئن

 

آئی ہے روضۂ پاک کو چوم کر

کیوں نہ اڑتی پھرے پھر صبا مطمئن

 

مشکلوں میں جو دی میں نے ان کو صدا

مضطرب دل مرا ہو گیا مطمئن

 

میں ازل سے غلامی میں ہوں آپ کی

ہوں اس اعزاز پر میں بڑا مطمئن

 

سامنے آپ کا روئے انور رہے

یوں رہوں میں بوقتِ قضا مطمئن

 

ان کی یادوں میں آصف ہوا محو جو

میں نے دیکھا ہمیشہ رہا مطمئن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ