اردوئے معلیٰ

رات کے ساتھ ہی جَل اُٹھتے ہیں طلعت کے چراغ

حرف بنتے ہی چلے جاتے ہیں مدحت کے چراغ

 

نعت کا باب کھلا قلب و نظر پر ایسے

جیسے ادراک میں رکھ دے کوئی حیرت کے چراغ

 

یا نبی سر بہ گریباں ہے تری ’’خیرِ اُمَم‘​‘​

یا نبی بھیج کوئی پھر سے خلافت کے چراغ

 

روشنی بجھنے کہاں دے گا عقیدت کا سفر

قبر میں ساتھ لیے جاتا ہوں مدحت کے چراغ

 

اِک نئے عہد کی تابندہ خبر دیتے ہیں

ثور کی کوکھ میں رکھے ہوئے ہجرت کے چراغ

 

اُس کے آنگن میں اُترتی نہیں تیرہ راتیں

جس کی دہلیز پہ روشن ہیں عقیدت کے چراغ

 

دیکھ کر کوئے مدینہ کے سہانے منظر

میری آنکھوں میں ہیں مقصودؔ محبت کے چراغ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات