اردوئے معلیٰ

Search

رب کا یہ سب ہے کرم دل کی فضا کیف میں ہے

پھول جو دل کے گلستاں میں کِھلا کیف میں ہے

 

فضلِ رب ہوگیا آقا کی دُعاؤں کے سبب

غزوئہ بدر میں رحمت کی گھٹا کیف میں ہے

 

حق کا محور ہے صداقت کا امیں ہے قرآں

آج ہر سمت ہی مولا کی صدا کیف میں ہے

 

طوفِ کعبہ کے صِلے میں جو مِلا ہے مجھ کو

وہ صِلا کیف میں ہے اور وہ عطا کیف میں ہے

 

ایڑیاں رگڑی تھیں جس بچے نے اس کے قرباں

غور سے دیکھو ذرا آبِ شفا کیف میں ہے

 

رحمتِ رب سے نہ مایوس ہو اے بندئہ رب

سُن کے پیغامِ خدا، آج خطا کیف میں ہے

 

جس کو اعزاز مِلا ہے وہ لباسِ کعبہ

غور سے دیکھو اے طاہرؔ وہ رِدا کیف میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ