اردوئے معلیٰ

Search

 

رحم کُن بر حالِ من اے سیّدِ خیرُالاَنَام

من غلام ابنِ غلام ابنِ غلام ابنِ غلام

 

آپ کی رحمت کو ممکن ہی نہیں ہرگز زوال

رحمَتَ الِّلعَالَمِیں ! ہے آپ کی رحمت مدام

 

آپ ہی لاریب ہیں بعد از خدا ذی مرتبہ

تھا کوئی پہلے ، نہ ہوگا ، آپ سا عالی مقام

 

نُورِ اوّل ہیں وہی ، اس پر ہیں سب ہی متّفق

وہ حبیبِ حق تعالیٰ ہیں ، نہیں اس میں کلام

 

نُورِ حق سے ضوفشاں اُن کا جمالِ بے مثال

پھینک دوں قدموں سے اُن کے وار کر عالم تمام

 

لاج رکھئے گا مری بھی حشر میں یا مصطفےٰ

آپ کے کھربوں غلاموں میں ہُوں میں بھی اک غلام

 

وہ کرم فرماتے ہیں تو نعت کہہ لیتا ہوں میں

ورنہ ممکن ہی کہاں تھا کہنا کچھ ایسا کلام

 

ہے خدا کا شکر ، اُن کا اُمّتی پیدا کیا

ہے محمد کے غلاموں میں مرا بھی ایک نام

 

اس سے بڑھ کر خوش نصیبی ہوگی کیا ، ہم کو اگر

حشر میں سرکار کے ہاتھوں ملے کوثر کا جام

 

ہو کرم کی اک نظر مجھ پر حبیبِ کبریا

جا بنامِ مصطفےٰ لے کے صبا میرا پیام

 

ہم کو مل جائے شفاعت مصطفےٰ کی حشر میں

ہے یہی دل کی تمنّا ، ہے یہی عرضِ تمام

 

بے نہایت رحمت اُن کو بخشی ہے اللہ نے

تا ابد حاصل رہے گا اُن کی رحمت کو دوام

 

ہو گزر جب بھی تمہارا کوئے طیبہ سے نسیم

پیش کرنا عاجزانہ اُن کو دانش کا سلام

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ