رشید احمد صدیقی کا یوم وفات

آج معروف ادیب اور مزاح نگار رشید احمد صدیقی کا یوم وفات ہے

رشید احمد صدیقی(پیدائش 24 دسمبر، 1892ء – وفات 15 جنوری، 1977ء)
———-
رشید احمد صدیقی یوپی کے ضلع جونپور کے ایک گاؤں مڑیا میں 24 دسمبر 1892 ء میں پیدا ہوئے۔
میٹرک تک جونپور میں رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ آ گئے۔ مالی حالت سے مجبور ہو کر کچہری میں ملازمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اورفارسی میں ایم اے کیا۔
آپ نے طالب علمی کے زمانے سے مزاحیہ مضامین لکھنا شروع کیے۔ علی گڑھ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ 1922ء میں وہیں کالج میں پروفیسر ہو گئے اور جب یونیورسٹی بنی اور اردو ادبیات کا شعبہ قائم تو رشید احمد صدیقی کو صدر شعبہ بنا دیا گیا۔
وہ شعروادب کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے ہیں ادب کے بڑے اچھے استاد تھے
ان کی زندگی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ ہے۔
15 جنوری 1977ء میں ان کا انتقال ہوا۔
عبد الماجد دریابادی آپ کے بھائی تھےـ
تصانیف
مضامین رشید
خنداں
گنج ہائے گرانمایہ
طنزیات و مضحکات
اردو طنز و مزاح کی تنقیدی تاریخ
آرا
آل احمد سرور
اکبر کے بعد اردو میں طنزیاتی روح سب سے زیادہ رشید احمد صدیقی کے یہاں ہے، ان کی سوجھ بوجھ بہت اچھی ہے اور ان کا تخیّل خلاق ہے، وہ معمولی باتوں میں مضحک پہلو بہت جلد دیکھ لیتے ہیں وہ قولِ محال یا Paradox کے ماہر ہیں اور الفاظ کے الٹ پھیر سے خوب کام لیتے ہیں۔ ان میں ایک سولیٹ کی تیزی، برناڈشاہ کی بُت شکنی، جسٹرٹن کی طباعی تینوں کے نمونے ملتے ہیں
بشکریہ وکی پیڈیا
———-
یہ بھی پڑھیں : نامور خطیب، عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کا یوم پیدائش
———-
اردو طنز و مزاح میں رشید احمد صدیقی کا درجہ اور ان کے اسلوب کی بنیادی خصوصیات
———-
رشید احمد صدیقی اردو میں اعلیٰ مزاح کے نمائندے ہیں جسے ہم ادبی زبان میں ‘‘خیالی مزاح’’ کہہ سکتے ہیں جہاں قہقہہ کا گزر نہیں بلکہ کسی پہلو پر غور و فکر کرنے کے بعد زیرِ لب مسکراہٹ سے ہی محظوظ ہوا جاتا ہے ۔ رشید صاحب طنز و مزاح سے بے ساختگی اس طرح سلب کرلیتے ہیں کہ ان سے صرف خواص کا زمرہ ہی لطف اٹھا سکتا ہے ۔ انھوں نے طنز و مزاح کی فنی خصوصیات کو اُجاگر کیا، اپنی فکر انگیز ظرافت سے شخصیت کی تہذیب کی نیز تضحیک، توقیر، ہمدردی اور کہیں کہیں رقّت کی لطیف آمیزش بھی نظر آتی ہے ۔ ان کے یہاں شستہ ظرافت پائی جاتی ہے ۔ رمز و کنایہ میں تنقید کے دشوار گذار مراحل سے گزر جانا رشید صاحب کا ہی حصہ ہے ۔ وہ جب کسی واقعے سے متعلق اپنے ذاتی جذبات اور احساسات کو طنزیاتی انداز میں پیش کرتے ہیں تو قاری اسے مذاق سمجھ کر ٹال نہیں سکتا۔ آل احمد سرور لکھتے ہیں:
“اکبر کے بعد اردو میں طنزیاتی روح سب سے زیادہ رشید احمد صدیقی کے یہاں ہے ، ان کی سوجھ بوجھ بہت اچھی ہے اور ان کا تخیّل خلاق ہے ، وہ معمولی باتوں میں مضحک پہلو بہت جلد دیکھ لیتے ہیں وہ قولِ محال یا Paradox کے ماہر ہیں اور الفاظ کے الٹ پھیر سے خوب کام لیتے ہیں۔ ان میں ایک سولیٹ کی تیزی، برناڈشاہ کی بُت شکنی، جسٹرٹن کی طباعی تینوں کے نمونے ملتے ہیں۔”
رشید صاحب کے طنز میں تلخی اور زہرناکی کا احساس نہیں ہوتا وہ چھوٹے چھوٹے فقروں سے بہت کام لیتے ہیں۔ ان کے فن میں عامیانہ پن نہیں بلکہ گہرائی اور گیرائی کا بول بالا ہے ۔ انھوں نے زندگی کے ہر پہلو کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا ہے ۔ شعر و ادب سے قطع نظر سیاست، تاریخ اور دیگر علوم و فنون کو بھی اپنے موضوع میں شامل کرلیا ہے جس کے سبب ان کے طنز و مزاح سے لطف اٹھانا آسان کام نہیں بلکہ خاصا باشعور اور بے حد شائستہ مذاق کا حامل ہونا ضروری ہے ۔ ان کے مزاح کے موضوعات میں تنوّع اور رنگارنگی ہے ۔ طنز و مزاح کے کسی خاص مکتبِ خاہل سے ان کی وابستگی نہیں رہی، انھوں نے سامراج، پارلیمان اور آئی سی ایس عہدیداروں پر کاری چوٹیں کیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جو ایک قومی اور بین الاقوامی ادارہ ہے رشید صاحب نے وہاں اپنا وقت ایک طالبِ علم اور استاد کی حیثیت سے گذارا، ان کی پوری ذہنیت علی گڑھ کی ہے جو ہندوستانی تہذیب کے بڑے طبقے کی سماجی زندگی سے ماخوذ ہے ۔ طنز و مزاح کے تعلق سے وہ علی گڑھ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’طنز و مزاح کی میری ابتدائی مشق کچی بارک اور ڈائننگ ہال سے شروع ہوئی یہی کچی بارک اور ڈائننگ ہال علی گڑھ سے باہر کہیں نصیب ہوئے ہوتے تو کچھ تعجب نہیں طبیعت یا طنزو ظرافت کی طرف ہی مائل نہ ہوتی یا پھر ان کا وہ انداز میسر نہ آتا جو یہاں آیا‘‘۔
———-
یہ بھی پڑھیں : نامور ہندوستانی مزاح نگار یوسف ناظم کا یوم پیدائش
———-
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رشید صاحب نے علی گڑھ سے جو کچھ لیا اس سے کہیں زیادہ اردو ادب کو دیا۔ انھوں نے اپنے شاگردوں پر ایسا اثر چھوڑا کہ ان کے لہجے ، اسلوب اور اندازِ بیان کی نقل کرنا ایک فیشن ہوگیا چنانچہ آل احمد سرور، خورشید الاسلام اور قاضی عبدالستار کی تحریریں ان سے ملتی جلتی نظر آتی ہیں۔ برجستگی، جملے کسنا، بات سے بات پیدا کرنا، ذومعنیت علی گڑھ کی خاص خصوصیت ہے ۔ رشید صاحب نے اپنی تحریروں میں اسے سمونے کی کوشش کی ہے ۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ ان کے فن نے علی گڑھ کی وجہ سے جِلا پایا اور اردو میں ایک نیا انداز وجود پذیر ہوا۔
اسلوب قلم کار کے فن کی کسوٹی ہے ۔ مصنف کی شخصیت، اس کی خوبیاں خامیاں، اس کی پسند ناپسند ساری چیزیں اس کے اسلوب میں کارفرما نظر آتی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ ایک فنکار دوسرے فنکار کے اسلوب کی نقل کرلے لیکن اس کی روح کو نہیں پاسکتا۔ رشید صاحب سرسیّد، غالب، شبلی، سجاد انصاری، ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر ذاکر حسین سے بہت متاثر ہیں اسی لیے ان کی تحریروں میں ان ساری آوازوں کی گونج سنائی دے گی لیکن یہ ساری آوازیں آپس میں اس طرح گھل مل گئی ہیں کہ صرف ایک آواز یا ایک اسلوب کا گماں ہوتا ہے اور وہ ہے رشید صاحب کی اپنی ذاتی آواز اور منفرد اسلوب۔
رشید صاحب کے اسلوب کی ایک نمایاں خصوصیات صنعتِ تجنیس (Alliteration) کا استعمال ہے۔ بذاتِ خود یہ کوئی اہم صنعت نہیں ہے لیکن عبارتوں میں ایسے انداز سے اسے لاتے اور کھپاتے ہیں کہ مزاح کی چاشنی دوبالا ہوجاتی ہے ۔ یہ صنعت لازمی طور پر عبارت کی شعریت اور دلکشی میں اضافہ کرتی ہے ۔ رشید صاحب کے یہاں قولِ محال (Paradox) کا استعمال بہت ہی مہارت اور صنّاعی کے ساتھ ملتا ہے ۔ قولِ محال کے استعمال سے طنز و مزاح کا رنگ چوکھا ہوجاتا ہے ۔ رشید صاحب کے اسلوب پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:
‘‘جدید اردو نثر کے ممتاز طنز نگار پروفیسر رشید احمد صدیقی ہیں۔ ان کی نگارش کی امتیازی خصوصیت اس کی تحلیل ہے ۔ اس تحلیل کے لیے وہ لفظی بازی گری اور فلسفیانہ عمل دونوں سے کام لیتے ہیں ․․․ طنز میں یہ فلسفیانہ کھیل ہی دراصل رشید احمد صدیقی کا سب سے مضبوط اور سب سے کمزور حربہ ہے ۔ مضبوط اس لیے کہ اس کی مدد سے وہ اپنے مضامین میں ایک خاص طنزیہ کیفیت کو جنم دے دیتے ہیں اور کمزور اس لیے کہ اس کے باعث ان کے طنز نہ صرف ایک فلسفیانہ اور علمی رنگ اختیار کرلیتے ہیں بلکہ اس پر بذلہ سنجی (WIT) کے عناصر کا تسلط بھی قائم ہوجاتا ہے ․․․ رشید احمد صدیقی کے طنز کو استعاروں، علامتوں اور مبہم اشاروں نے اتنے نقاب پہنا دیے ہیں کہ صرف وہی لوگ جنھیں اس ماحول کی معطر تنہائی تک رسائی حاصل ہے اس سے پوری طرح لطف اندوز ہوسکتے ہیں’’۔
رشید صاحب کے یہاں عدالتی اصطلاحات بھی ملتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اس کا تجربہ ہوچکا تھا نیز طبی اصطلاحات بھی ملتی ہیں اس کی وجہ انھوں نے خود لکھی ہے کہ ‘‘میں ہمیشہ مریض رہا ہوں’’۔ ان کے اسلوب کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وہ کسی موضوع پر خیال آرائی کرتے کرتے اچانک موضوع سے ہٹ جاتے ہیں اور دوسرے طویل قصے چھیڑ دیتے ہیں اس طرح فطری طور پر قاری کے ذہن کو دھچکا لگتا ہے چنانچہ پڑھنے والے کی طبیعت اُچاٹ ہونے لگتی ہے نیز اصل موضوع اور ثانوی قصوں میں ربط تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ موضوع سے ہٹ جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ غیر ضروری باتیں لکھتے ہیں یا خواہ مخواہ اِدھر اُدھر کی اُڑاتے ہیں بلکہ ان طویل باتوں میں ایک فنکارانہ کفایت پسندی سے جس کے ذریعے وہ اصل موضوع کے مختلف زاویوں کے ذریعے دماغ کے مختلف گوشوں پر چھا جاتے ہیں۔
رشید صاحب کی تحریروں میں صیغہ واحد متکلم کا استعمال کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ یہ چیز شخصی انانیت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ذاتی تجربے پر زور دینے کے لیے ہے مثلاً ‘‘میں اکثر غور کرتا رہتا ہوں کہ آخر شعراء درد گردہ میں کیوں نہ مبتلا ہوئے ’’، ‘‘میں نے کہا مرشد ذاتیات اور قومیات دونوں پر لعنت بھیجیے ’’ یا ‘‘میں نے کہا حاجی صاحب دیکھیے ملنے سے کتنی غلط فہمیاں دور ہوجاتی ہیں’’ وغیرہ وغیرہ یہ تحریر کی خامی نہیں ہے ، ہاں اگر اسکا استعمال کم کیا جاتا تو مناسب تھا۔
———-
یہ بھی پڑھیں : رنگِ چمن میں اب بھی ہے حسنِ دلبرانہ
———-
رشید صاحب کی تحریروں میں ایمائیت ضرور موجود ہے لیکن اس لیے نہیں کہ خیالات کی ہم آہنگی نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ خیالات میں گہرائی پائی جاتی ہے ۔ عربی اور فارسی کے الفاظ فطری اور بے ساختہ انداز میں آجاتے ہیں۔ ان کے برمحل اور برجستہ استعمال کی وجہ سے تصنّع کا گمان نہیں ہوتا۔ لفظوں کے استعمال میں انھوں نے نہایت احتیاط سے کام لیا ہے ۔ جہاں کہیں انھوں نے تصنّع اور نمائش سے کام لیا ہے وہ محض موضوع کو ترفع اور وقار بخشنے کے لیے ہے ۔ پروفیسر محمد حسن نے رشید صاحب کی طرزِ تحریر کی تشکیل میں تین اہم عناصر کی واضح طور پر نشاندہی کی ہے ۔ اقتباس بہت طویل ہے اس لیے ہم مختصر طور پر منتخب چیزوں کو ہی موصوف کی زبانی پیش کرتے ہیں:
’’پہلا عنصر ضلع جونپور کے اطراف و جوانب کی قصباتی زندگی اور تہذیب اور اس کے ساتھ ساتھ ضلع کی عدالتوں کے اس ماحول کا اثر ہے جس سے رشید صاحب ابتدا میں وابستہ رہے ۔ یہ قصباتی تہذیب وہ تھی جو واجد علی شاہ کی معزولی کے بعد دہلی اور لکھنؤ کی پروردہ ہند ایرانی تمدن کی باقیات کی حیثیت سے نواح کے قصبوں میں بکھرگئی تھی اس تہذیب میں رکھ رکھاؤ، ضبط و احتیاط، توازن، تمیز اور شائستگی موجود تھی۔ قانونی عدالتوں کی فضا لفظوں کے منطقی ملحقات کے گرد بکھری ہوئی اور لفظی موشگافیوں کی پیدا کردہ وکیلوں، جھوٹے گواہوں، اہلکاروں اور پیش کاروں کی فضا ہے جس میں ہندوستانی سماج کی ذہانت، چالاکی، عظمت و عبرت کی داستان سموئی ہوئی ہے ۔
دوسرا اہم عنصر علی گڑھ کی اقامتی زندگی، علی گڑھ کالج آج بھی چھوٹا سا شہر ہے ، رشید صاحب کے زمانے میں قصبہ ہی تھا، یکوں کا چلن تھا، اقامت گاہوں میں دھول اُڑتی تھی، کچھ بارکیں تھیں لہٰذا تفریحی مشاغل میں گپ اور اقامتی زندگی کی شرارتوں کا درجہ سب سے بلند تھا اس کے بعد یونین کی ڈبیٹ اور کرکٹ اور ٹینس کے لان۔ اقامتی زندگی کی گپ میں ایک شگفتہ لب ولہجہ، نجی اندازِ گفتگو، قصہ گوئی کی تصویر کشی، قوتِ بیان اور خوش طبعی کا رنگ لازمی ہے جہاں گفتگو سنجیدگی سے بوجھل ہوئی لوگوں کی توجہ بھٹکنے لگی۔ اس اقامتی زندگی کا ایک فیض یہ بھی تھا کہ رشید صاحب صرف انھیں موضوعات پر قلم اٹھاتے تھے جو اس زمانے کے علی گڑھ کالج والوں کے لیے مانوس اور متعارف تھے ۔
تیسرا اہم عنصر انگریزی کے ان صاحبِ طرز انشا پردازوں کا اثر ہے جن تک رشید صاحب کی رسائی غالباً علی گڑھ کالج کے ذریعے ہوئی ان سے رشید صاحب نے طہارتِ فکر اور لبرل ازم نہیں سیکھا بلکہ اظہار کے لیے ایسے متعدد پیرائے بھی سیکھے جو انگریزی نثر میں خاصے کا درجہ رکھتے تھے ۔ مختصر ترین لفظوں میں بلیغ انداز سے کسی بات کو اس انداز سے ادا کرنا کہ اس سے ایک جہانِ معنی نظر کے سامنے آجائے اور پھر قدرتِ ادا، شگفتہ بیانی اور لطیف مزاح کے پہلو بھی ہاتھ سے نہ جانے پائیں یا متضاد خیالات کو قولِ محال کی شکل میں ترتیب دے کر رنگین بیانی کا انداز پیدا کرنا یا طویل مرکب جملوں کی مدد سے پورا نگارخانہ سجانا یہ سب ہنر ایسے ہیں جو مغرب سے اور بالخصوص انگریزی نثر نگاروں کے اثر سے ان تک پہنچے ہیں اور انھیں رشید صاحب نے اپنے مزاح کے نسخہ کیمیا سے اس طرح ترتیب دیا ہے کہ وہ خاص انھیں کی ایجاد قرار پائے ‘‘۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مختار صدیقی کا یوم پیدائش
———-
مندرجہ بالا اقتباس طویل ضرور ہے لیکن رشید صاحب کے اسلوب کے سلسلے میں عمدہ مواد فراہم کرتا ہے چنانچہ وہ کسی بھی طرح افادیت سے خالی نہیں۔
زبان کے تعلق سے عربی، فارسی کے الفاظ اور فقرے استعمال ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنی بات کو پورا کرنے کے لیے عربی، فارسی شعراء کے مصرعوں کا سہارا لیا ہے ۔ عربی، فارسی کے محاوروں اور کہاوتوں کا برمحل استعمال عبارت میں رعنائی پیدا کرتا ہے ۔ ان کے پسندیدہ شاعر سعدیؔ، حافظؔ، غالبؔ، میرؔ اور اکبرؔ الٰہ آبادی ہیں۔ انھوں نے زیادہ تر انھیں شعراء کے کلام سے مصرعے لے کر اپنی تحریر میں استعمال کیا ہے اور انھیں اپنی تحریر کا حصہ بنالیا ہے ۔
’’مضامینِ رشید’’ اور ‘‘خنداں’’ رشید صاحب کے طنز و مزاح کا بہترین نمونہ ہیں، ان میں انھوں نے بعض اہم شخصیات کا بھی ذکر کیا ہے اور اپنے طرزِ تحریر کے زور سے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ وہ ہمارے سامنے ہنسے بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ موضوع غیر دلچسپ ہونے کے باوجود عبارت میں وہ شگفتگی اور رعنائی ہے کہ جی نہیں بھرتا لیکن جو بات ‘‘مضامینِ رشید’’ میں ہے وہ ‘‘خنداں’’ میں نہیں اگرچہ ‘‘خنداں’’ نقشِ ثانی ہے ۔ اسلوب احمد انصاری کے بقول ‘‘یہ امر واقعی قابلِ افسوس ہے کہ ‘‘مضامینِ رشید’’ کے بعد سے جو بالکل ابتدائی زمانے میں لکھے گئے تھے ، رشید صاحب کی مزاح نگاری کا فن برابر روبہ تنزل رہا ہے حتیٰ کہ ‘‘خنداں’’ مں ر وہ تقریباً ترقی معکوس کے درجے پر پہنچ گئے ہیں’’ لیکن اسی کے مقابلے میں آل احمد سرور کا خیال ہے کہ ‘‘ان کے یہاں صاف ایک ارتقا ملتا ہے ’’۔ ‘خنداں’ دراصل ریڈیائی تقاریر کا مجموعہ ہے ۔ ظاہر ہے ایسے مضامین میں موضوع اور اندازِ بیان دونوں لحاظ سے ہر سطح کے قاری یا سامع کا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ ریڈیو پر وقت کی پابندی کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی طرح کی پابندیاں فنکار کی تخلیقی آزادی میں رخنہ انداز ہوکر فن کو مجروح کرتی ہیں۔ رشید صاحب کو خود اس بات کا احساس ہے ۔ ‘خنداں’ کے مضامین اپنی فکری و فنی ناہمواریوں کے باوجود بھی اس لیے اہم ہیں کہ ان میں اختصار، موضوعات کا تنوّع، سیدھا سادہ اور دلچسپ اندازِ بیان پایا جاتا ہے اور یہ مضامین خواص و عوام سب کی دلچسپی کے ہیں۔ طنز و مزاح کے لطیف اشارے ان میں موجود ہیں اس لیے ‘خنداں’ کا پس منظر بغیر جانے ہوئے یہ فیصلہ صادر کردینا کہ جو فن کی بالیدگی ‘مضامینِ رشید’ میں ہے وہ ‘خنداں’ میں ناپید ہے ، حقیقت سے انحراف ہے ۔
مرقع نگاری میں ‘گنج ہائے گراں مایہ’ اور ‘ہم نفسانِ رفتہ’ رشید صاحب کے اہم کارنامے ہیں۔ موضوع سے مکمل مناسبت قائم کرنے کے لیے وہ اپنے اسلوب میں لچک پیدا کرتے ہیں۔ محمد علی کے لیے جو انھوں نے اسلوب اختیار کیا ہے وہ دوسروں کے لیے نہیں۔ اسلوب کی عدمِ یکسانیت کے باوجود ہرجگہ رشید صاحب کی جھلک صاف نظر آتی ہے ۔ ان کے اسلوب کی دلکشی کا کمال یہ ہے کہ یہ مرقعے نہیں پیش کرتی بلکہ نئے کرداروں کی تخلیق کرتے ہیں ۔
بقول اسلوب احمد انصاری ’’اچھی نثر وہ ہے جس میں جھول اور رخنہ نہ ہو جو ذہن اور جذبات دونوں کو اپیل کرے ، جس میں الفاظ ہر طور پر اور قطعیت کے ساتھ شیر و شکر ہوں اور سخت گیر نظم و ضبط کے باوجود شخصیت کی تابناکی، رنگ اور حرکت اس میں دہکتی ہو۔ رشید صاحب کی نثر میں یہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں‘‘۔
———-
یہ بھی پڑھیں : ہندوستانی مزاح نگار یوسف ناظم کا یوم وفات
———-
حواشی
———-
۱؂ تنقیدی اشارے ، آل احمد سرور، ص 163-64، ایڈیشن 1955، ناشر: ادارہ فروغِ اردو، امین آباد پارک، لکھنؤ، مطبع: سرفراز قومی پریس، لکھنؤ۔
۲؂ آشفتہ بیانی میری، رشید احمد صدیقی، ص128، محولہ رشید احمد صدیقی، سلیمان اطہر جاوید، ایڈیشن 1988، ناشر: ساہتیہ اکادمی نئی دہلی، مطبع: ومل آفسیٹ دہلی۔
۳؂ اردو ادب میں طنز و مزاح، وزیر آغا، ص214، محولہ ‘آج کا اردو ادب’ ابواللیث صدیقی، ص312، ایڈیشن 1979، تقسیم کار: ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ مطبع: تاج آفسیٹ پریس، الٰہ آباد۔
۴؂ شناسا چہرے ، محمد حسن، ص 192,193,194، ایڈیشن 1979، ناشر: ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، مطبع: تاج آفسیٹ پریس، الٰہ آباد۔
۵؂ ‘نقد و نظر’ تنقیدی ششماہی، ص6، 1980 ۔ مطبع: لیتھو کلر پرنٹرس، اچل تال، علی گڑھ، جلد:2، شمارہ:1۔
———-
ڈاکٹر جعفر احراری
ایسوسی ایٹ پروفیسر
شعبۂ اردو ذاکر حسین دہلی کالج، (دہلی یونی ورسٹی)
———-
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ