رفیق احمد نقش کا یومِ پیدائش

آج نامور شاعر ، ماہر لسانیات ، ادیب اور مترجم رفیق احمد نقش کا یومِ پیدائش ہے۔

رفیق احمد نقش(پیدائش: 15 مارچ، 1959ء – وفات: 15 مئی، 2013ء)
——
رفیق احمد نقش پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، ماہر لسانیات، محقق اور ماہر غالبیات تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ درس و تدریس میں گزارا۔ انہوں نے گورنمنٹ سٹی کالج کراچی، کیڈٹ کالج پٹارو، بحریہ کالج کارساز اور محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں اردو کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
——
مجھے اختلاف نہیں ہے از ڈاکٹر رؤف پاریکھ
——
کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ایک استاد کے کمرے میں ہم لوگ جمع تھے ۔ یہ ذکر ہے آج سے کوئی بیس پچیس سال پہلے کا ۔ ناول اور فکشن پر بات ہوتے ہوتے قراۃ العین حیدر کا ذکر چھڑ گیا ۔ اس پر ایک صاحب نے ، جو نوجوان تو یقیناََ نہ تھے لیکن نوجوانوں سے زیادہ پُرجوش تھے ، قراۃ العین کی زندگی ، طالب علمی ، فن اور شخصیت پر روشنی ڈالنی شروع کی اور کچھ دیر کے لیے سبھی خاموش ہو کر سننے لگے ۔
جچے تلے الفاظ ، پُر اعتماد انداز ، لہجہ کبھی کبھی طنزیہ جو بعض اوقات استہزائیہ بھی معلوم ہونے لگتا ۔
معلوم ہوا کہ یہ رفیق احمد نقش ہیں ۔ کسی کالج میں استاد ہیں اور پی ایچ ڈی کا ڈول بھی ڈال رکھا ہے ۔
بعد میں ملاقاتیں ہوئیں تو ان کی وسعتِ مطالعہ اور حافظے نے حیران کر دیا ۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ شخص دل پر نقش ہو گیا تھا اور اسی لیے میں انہیں مذاقاَ بھائی نقش یا نقاش کہتا تھا ۔
کبھی ان کے مطالعے اور نظر کی تعریف کرتا تو کہتے : ” کیا ہو گیا ہے ؟ کوئی کام ہے کیا ؟ ” اس طرح کے فقروں سے اپنی تعریف کو ہوا میں اڑا دیتا ۔
میں اب انہیں کی بجائے اس لکھوں گا کیونکہ بعد میں اس سے بے تکلفی ہو گئی تھی ۔
املا ، تلفظ ، صحتِ زبان ، عروض اور قواعد کے مسائل پر اس سے بات کرنا مشکل تھا ۔ گہرا علم اور حاضر علم ، دلیلیں ، مثالیں ۔
باوجود اختلاف کے اس کی بات پہ غور کرنا پڑتا تھا ۔
ادب کی معلومات حیرت انگیز ، کتابوں کے حوالے انگشت بدنداں کرنے والے ۔
اگرچہ کبھی کبھی دوستانہ اختلاف کرنا پڑتا تھا لیکن نہ کبھی ناگواری کا احساس ہوا اور نہ کوئی بدمزگی ہوئی ۔
ایک آدھ بار میں نے کہا ، مجھے اختلاف ہے تو ہنس کر کہنے لگا : ” پوری بات تو سن لو ، بات سننے سے پہلے ہی اختلاف ہے ” ۔
اسی بے تکلفی اور حق گوئی نے بہتوں کو گرویدہ بنا رکھا تھا ۔ کچھ لوگ چیں بہ جبیں بھی ہوتے تھے ، اس سے کنی کتراتے تھے لیکن رفیق دل کا ایسا سچا ، نیت کا ایسا صاف اور ایسا مخلص انسان تھا کہ اس ریاکار اور منافق معاشرے کے انا اور مفاد کے مارے لوگ اسے سمجھ ہی نہیں سکے تھے ۔
لوگوں کی مدد اس طرح کرتا تھا کہ کبھی کبھی تکلیف ہونے لگتی تھی کہ کیوں اپنی صحت ، وقت ، محنت اور رقم کو بے دریغ دوسروں کی مدد کے لیے لٹاتا تھا ۔
اگر اسے علم ہو جاتا کہ فلاں کو فلاں کتاب کی ضرورت ہے یا فلاں موضوع پر فلاں کام کر رہا ہے تو کتاب ہاتھ آتے ہی بے چین ہو جاتا ۔ جیب سے صرف کر کے عکسی نقل بنواتا اور پیش کر دیتا تھا ۔ ایسے میں کبھی کبھی لگتا کہ رفیق کیچڑ میں موتی پھینک رہا ہے ۔
اسے علم ہوا کہ میں سلینگ کے موضوع پر کام کر رہا ہوں تو منیر لکھنوی کی ایک کم یاب کتاب کی عکسی نقل جلد بندھی ہوئی خوشبو بیٹی کے ہاتھ بھجوا دی ۔ اسے کہتے ہیں بن مانگے ملیں موتی ، مانگے ملے نہ بھیک ۔ کیوں کہ جن سے توقع تھی انہوں نے کتابوں کے نام تک بتانا گوارہ نہ کیا ۔
سندھ یونیورسٹی نے 2007ء میں ایک سیمینار اور مشاعرہ کروایا تو جو لوگ کراچی سے آئے ان میں رفیق اور یہ عاجز بھی شامل تھا ۔ سارا راستہ مزے کی باتیں ہوتی رہیں ۔ اتفاق سے حیدر آباد میں ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں ہم دونوں کو ٹھہرایا گیا ۔ رات ایک دو بجے مشاعرے میں ساتھ ساتھ بیٹھے رہے ۔ ہر شاعر پر دونوں پُرلطف تبصرے بھی کرتے رہے ۔ جہاں کوئی مصرع بحر سے خارج کسی شاعر نے پڑھا ، یا کوئی لفظ یا ترکیب غلط استعمال کی رفیق نے باآوازِ بلند داد دی اور چپکے سے بلکہ اسی بلند آواز میں غلطی کی نشاندہی بھی کر دی ۔
طنز اس کی گھٹی میں پڑا تھا ۔ غرض ہنستے ہنساتے ہوٹل آئے اور زبان اور املا اور لغت پر بات شروع کی ۔
یقین جانئے کہ صبح کے چار بج گئے ۔
لیکن اس پیارے ، مخلص ، عالم فاضل آدمی کو بعض لوگ ناپسند کیوں کرتے تھے ؟
اس کے ساتھی ، اس کے دوست ، اس کے شاگرد ، اسکولوں اور کالجوں کے بے شمار استاد جنہیں وہ بلا معاوضہ پڑھاتا تھا اس پر جان چھڑکتے تھے لیکن اس دلربا آدمی کو بعض لوگ بالخصوص ” بڑے ” لوگ کیوں ناپسند کرتے تھے ؟
غالباََ اسی طنزیہ لہجے اور استہزائیہ انداز کی وجہ سے اور اسی حق گوئی کی وجہ سے جو کسی غلط بات کو برداشت نہ کرنے کا نتیجہ تھی ۔ غلط لفظ ہو یا بات ، وہ سن کر چپ نہیں رہ سکتا تھا ۔ برملا کہہ دیتا کہ تلفظ یوں نہیں یوں ہے ۔ مجھ جیسے دوست سن بھی لیتے اور قائل ہو جاتے یا قائل کر لیتے ۔ نہ اسے برا لگتا نہ مجھے ۔ لیکن بعض لوگ یا اس کا علم برداشت نہیں کر پاتے تھے یا اس کی حق گوئی ۔
——
یہ بھی پڑھیں :  رشید لکھنوی کا یوم پیدائش
——
رفیق احمد نقش میں تکبر نہیں تھا نہ وہ علم کی نمائش کرتا تھا بلکہ اپنی لاعلمی کا برملا اعتراف کرتا تھا ۔
کبھی کبھی فون کرکے میری تصحیح کرتا اور میں حسبِ معمول ” مجھے اختلاف ہے ” کا راگ الاپتا ۔ تعریف کرنے میں اس نے کبھی بُخل سے کام نہیں لیا ۔
حیدر آباد سے واپسی پر گاڑی میں تحقیق اور حواشی پر بات ہونے لگی ۔ اس بات پر رفیق سخت نالاں تھا کہ لوگ حواشی اور حوالہ جات میں تمیز نہیں کرتے ۔ حالانکہ لفظ حواشی میں حوالہ جات کا مفہوم موجود ہے ۔ اور کسی مقالے کے آخر میں حوالوں کے ساتھ وضاحتی نوٹ بھی ہے تو حواشی لکھنا کافی ہے ۔
اسے حواشی و حوالہ جات لکھنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ میں نے کہا یار چھوڑو بڑے بڑے لوگ اسی طرح لکھ رہے ہیں ۔ میں تم کہہ کر بُرے بنیں گے ۔
اسے شاید یہ بات اچھی نہیں لگی ، یہ اس کا مزاج ہی نہیں تھا کہ غلط بات سن کر خاموش رہے ۔ اس دن بھی ناگواری کا اظہار کر کے خاموش ہو گیا ۔
گاڑی میں ہمارے ساتھ اس کی بہن بھی تھی جسے کراچی آنا تھا اور چونکہ گاڑی میں جگہ تھی تو لہٰذا ہم نے اسے بھی سوار کرا لیا ۔
وہ پچھلی نشست پر ہماری باتیں سنتی رہی تھی ۔ کراچی پہنچ کر ہم گاڑی سے اترے تو میں نے رفیق کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس کی بہن سے کہا : ” تمہارا یہ بھائی بہت قابل اور پڑھا لکھا ہے لیکن ہم جیسے جاہلوں میں پھنس گیا ہے ”
اس پر رفیق احمد نقش اپنے مخصوص انداز سے ہنسا اور بات کو حسبِ معمول ٹال دیا ۔ فقرے بازی کر کے ہم رخصت ہو گئے لیکن وہ میرا سچا تأثر تھا ۔
اس ظالم معاشرے نے اس کو اس کا حق صرف حق گوئی کی وجہ سے نہیں دیا ۔
ایسا دلربا آدمی اور یوں ضائع ہو گیا ۔ مگر ضائع کہاں ہوا ؟ سینکڑوں لوگوں بلامبالغہ سینکڑوں لوگوں کی زندگیوں کو ضائع ہونے سے بچا گیا ۔
لیکن افسوس میں اسے ٹھیک طرح سے الوداع بھی نہ کر سکا ۔ اب کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ مشفق خواجہ اور رفیق نقش کے جانے کے بعد فرمان فتح پوری بھی چلے گئے ، اب املا اور تلفظ اور لغت کا سوال کس سے کروں گا ؟
کراچی میں کون ہے جو مجھے برملا ٹوک کر یہ کہہ سکے کہ یار کم از کم تم تو اس طرح یہ لفظ مت بولو اور میں کہوں کہ مجھے اختلاف ہے ۔
رفیق احمد نقش تم چلے گئے ، اچانک ۔ یہ امرِ ربی تھا لہٰذا میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ” مجھے اختلاف ہے ” ۔
——
منتخب کلام
——
تجھ سے بچھڑ کے بارہا محسوس یہ ہوا
خوش بو ترے بدن کی مرے آس پاس تھی
——
آمد فصل گل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی، تیری یاد آ گئی
دھیرے دھیرے فضائے جہاں اپنی رنگت بدلنے لگی، تیری یاد آ گئی
——
رفتہ رفتہ ہر اک گھاؤ بھر جاتا ہے
پہلے پہل ہم تجھ سے بچھڑ کر اور ہی کچھ تھے
سینے میں تھا درد مگر ہونٹوں پہ تبسم
باہر ہم کچھ اور تھے اندر اور ہی کچھ تھے
——
جس کے سخن میں زہر سے زائد ہیں تلخیاں
اس کے لبوں میں شہد سے بڑھ کر مٹھاس تھی
——
پیڑوں کو کاٹنے سے پہلے خیال رکھنا
شاخوں پہ کوئی غنچہ حیران رہ نہ جائے
——
مرے کچے مکان کو نقش، ڈھا کر
ہوائے شہر اب کس لہر میں ہے
——
جو بھی سایہ مہیا کرتا ہے نقش
جھیلنی پڑتی ہے اس کو کڑی دھوپ
——
ہر سانس ہے کراہ مگر تم کو اس سے کیا
ہو زندگی تباہ مگر تم کو اس سے کیا
تم ہو سہیلیوں میں مگن اور میرا حال
تنہائی بے پناہ مگر تم کو اس سے کیا
تم تو ہر ایک بات پہ دل کھول کر ہنسو
بھرتا ہے کوئی آہ مگر تم کو اس سے کیا
منزل ملی نہ ساتھ تمہارا ہوا نصیب
کھوئی ہے میں نے راہ مگر تم کو اس سے کیا
ہر سمت ہیں اداس منظر کھلے ہوئے
ویران ہے نگاہ مگر تم کو اس سے کیا
سیلاب میں سروں کی فصیلیں بھی بہہ گئیں
بے جرم بے گناہ مگر تم کو اس سے کیا
اب زندگی کی مانگتے ہیں بھیک در بہ در
شاہانِ کج کلاہ مگر تم کو اس سے کیا
گر تجزیہ کرو تو عیاں ہو نظر پہ نقش
ظاہر سفید و سیاہ مگر تم کو اس سے کیا
——
نیند آتی کہاں ہے آنکھوں میں
رات ہر دم جواں ہے آنکھوں میں
ہونٹ تو مسکراتے رہتے ہیں
دولتِ غم نہاں ہے آنکھوں میں
وہ بظاہر ذرا نہیں بدلی
اجنبیت عیاں ہے آنکھوں میں
ڈار سے کونج کوئی بچھڑی ہے
وحشتوں کا سماں ہے آنکھوں میں
ہم جہاں روز چھپ کے ملتے تھے
وہ کھنڈر سا مکاں ہے آنکھوں میں
آنکھوں آنکھوں میں ہوتی ہیں باتیں
نقش گویا زباں ہے آنکھوں میں
——
سمندر میں اترتے جا رہے ہیں
یہ دریا جو بپھرتے جا رہے ہیں
ہواؤں کے مقابل ڈٹ گئے تھے
سو، اب ہر سُو بکھرتے جا رہے ہیں
اکائی کی وہی خواہش دلوں میں
بدن دونوں ٹھٹھرتے جا رہے ہیں
وہ چہرہ فتح میں کیسا لگے گا
اسی نشے میں ہرتے جا رہے ہیں
کتابِ وصل کی تکمیل کر کے
حروف اس کے بسرتے جا رہے ہیں
——
رہوں گر دور تجھ سے آتشِ فرقت جلاتی ہے
قریب آؤں تو تیرے سانس کی حدت جلاتی ہے
تجھے چھو لوں تو جل اٹھوں ، نہ چھو پاؤں تو جلتا ہوں
عجب نسبت ہے یہ جاناں ، بہ ہر صورت جلاتی ہے
تجھے تھا چند ساعت میرے ساتھ دھوپ میں چلنا
مجھے اب تک مرے احساس کی شدت جلاتی ہے
کروں پرواز تو کھینچے مجھے پاتال میں دھرتی
جو دھرتی پر رہوں تو خواہشِ رفعت جلاتی ہے
کسی دن راکھ ہو جاؤں گا جانِ نقش جل جل کر
ابھی تو دھیمے دھیمے تیری ہر عادت جلاتی ہے
——
دوستوں کو دشمنوں کو بھول کر
اک ملن سب مسئلوں کو بھول کر
اک پرانی یاد کو تازہ رکھا
روزمرہ سانحوں کو بھول کر
پوچھنا یہ ہے کہ ہجرت نصیب
کیسے زندہ ہیں گھروں کو بھول کر
اک نئی صورت کے دلدادہ ہوئے
پچھلے سارے رابطوں کو بھول کر
عشرتِ امروز میں گم گشتگی
آنے والی ساعتوں کو بھول کر
ٹوٹ کر اس سے ملا تھا نقشؔ میں
سب دکھوں ، سب رت جگوں کو بھول کر
——
نذرِ محمد علی منظر
یہ زمیں ، یہ آسماں ، سب رائگاں
دیکھ لے سارا جہاں ، سب رائگاں
کیا سنائیں داستانِ رنگ و نور
مور ، جگنو ، تتلیاں ، سب رائگاں
واہمہ ہے یہ جہانِ ہست و بود
ہے عدم ہی جاوداں ، سب رائگاں
کہکشاں بر کہکشاں یہ کائنات
ہے جہاں اندر جہاں ، سب رائگاں
دید کی لذت کے لمحے عارضی
پھر کہاں تُو ، میں کہاں ، سب رائگاں
ہجر کے سارے الم ہیں رفتنی
وصل کی شادابیاں ، سب رائگاں
ساری باتیں اور ملاقاتیں عبث
دل سے اٹھتا ہے دھواں ، سب رائگاں
رفتگاں ، موجودگاں ، آئندگاں
رائگاں ، سب رائگاں ، سب رائگاں
——
بحوالہ : مجلہ روایت ، میر پور خاص
رفیق احمد نقش نمبر۔ اگست2014
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ