اردوئے معلیٰ

Search

رُخِ مصطفٰی کی ہے روشنی یہ چمک جو شمس و قمر میں ہے

رُخِ مُصطفٰی کا ہی عکس ہے یہ دمک جو لعل و گہر میں ہے

 

جو اٹھا رہا ہے قسم خدا وہ ترا ہے چہرۂ دلربا!

کہ تُوئی سراجِ منیر ہے یہ قمر بھی تیرے اثر میں ہے

 

ترے ہجر کی جو ہیں ساعتیں ،یہ سکون سارا ہی لے گئیں

سو مداوا اس کا تمہی تو ہو، یہ جو درد میرے جگر میں ہے

 

یہ تری جو انگلی اٹھے اگر چلا آئے سورج لوٹ کر

ہوترا اشارہ چلیں شجر، وہ کمال تیری نظر میں ہے

 

ترے نقشِ پا کی ہے جستجو جو تلاشِ حق میں ہے رہنما

اِسی نقشِ پا کی تلاش میں ، مِری روح کب سے سفر میں ہے

 

مری زیست کیف سے ہے تہی سو بلا لیں اب تو مجھے نبی

میرا دل بھی ہو کبھی آشنا وہ جو کیف تیرے نگر میں ہے

 

ہے جلیل ان سا کوئی نہیں یہ سبھی نے مانا ہے بالیقیں

کہ سکون ایسا کہیں نہیں جو قدومِ خیرِ بشر میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ