رہ خیر الوری میں روشنی ہے

رہ خیر الوری میں روشنی ہے

یہاں ہر ایک گاہ میں روشنی ہے

 

کوئی بھی راستہ دھندلا نہیں ہے

وہ انکے نقش پا میں روشنی ہے

 

خدا کا گھر بھی دیکھو جگمگایا

عجب بدرالدجٰی میں روشنی ہے

 

ہر اک ہے گوشہ گوشہ تاباں تاباں

رہ شمس الفجٰی میں روشنی ہے

 

ہوئے روشن مکاں و لا مکاں ہیں

وہ روئے والضحی میں روشنی ہے

 

ہے سب پائے محمد کا اتارہ

یہ جو بھی مہر و تار ماہ میں روشنی ہے

 

جو تیرے خاک در میں تاب دیکھی

کہاں وہ تاج شاہ میں روشنی ہے

 

نذیر اس نعت کا ہے فیض سہارا

یہ جو تیری نوا میں روشنی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دیارِ احمد مختار چل کے دیکھتے ہیں
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
سحر چمکی جمالِ فصلِ گل آرائشوں پر ہے
در پہ آئے ہیں اِلتجا کے لیے
اُنؐ کی رحمت کا کچھ شمار نہیں
درِ سرکارؐ پر گریاں ہے کوئی آبدیدہ ہے
السّلام اے سیّد و سردارِ ما
آپ ہیں مصطفےٰ خاتم الانبیاء
وَالفَجر ترا چہرہ، والیل ترے گیسو

اشتہارات