زائروپاسِ ادب رکھو ہوس جانے دو

 

زائرو پاسِ ادب رکھو ہوس جانے دو

آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ان کو ترس جانے دو

 

سوکھی جاتی ہے امیدِ غربا کی کھیتی

بوندیاں لکۂ رحمت کی برس جانے دو

 

پلٹی آتی ہے ابھی وجد میں جانِ شیریں

نغمۂ قُم کا ذرا کانوں میں رس جانے دو

 

ہم بھی چلتے ہیں ذرا قافلے والو ٹھہرو

گٹھریاں توشۂ امید کی کس جانے دو

 

دیدِ گل اور بھی کرتی ہے قیامت دل پر

ہم صفیرو ہمیں پھر سوئے قفس جانے دو

 

آتشِ دل بھی تو بھڑکاؤ ادب داں نالو

کون کہتا ہے کہ تم ضبطِ نفس جانے دو

 

یوں تنِ زار کے درپے ہوئے دل کے شعلو

شیوۂ خانہ بر اندازیِ خس جانے دو

 

اے رضا آہ کہ یوں سہل کٹیں جرم کے سال

دو گھڑی کی بھی عبادت تو برس جانے دو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر لفظ کہہ رہا ہے مقدّس کتاب کا
وہ کون سی منزل تھی کل رات جہاں میں تھا
دِوانو! جشن مناؤنبی کی آمد ہے
محمد مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا​
جو نگاہِ شہِ امم ہو جائے
مدینہ چھوٹتا ہے جب تو کیسا درد ہوتا ہے
عطا کا مال و زر دامن میں بھرکر ناز کرتا ہے
جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​
گلزار مدینہ سے جسے پیار نہیں ہے
آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر