اردوئے معلیٰ

Search

زمانہ ہم سے نگاہیں ملا نہیں سکتا

حسینیوں کو کوئی بھی ڈرا نہیں سکتا

 

کٹا کے سر مرے شبیر نے کیا اعلان

کوئی چراغ صداقت بجھا نہیں سکتا

 

حسین ہم تری زلفوں کے سائبان میں ہیں

ہمارا حوصلہ کوئی گھٹا نہیں سکتا

 

غم حسین کی دولت نہیں ہے جس کے پاس

مزا حیات کا وہ شخص پا نہیں سکتا

 

مرے حسین سے نسبت ہےجس کو اے دنیا

ترے فریب کے دامن میں جا نہیں سکتا

 

علی کے نور نظر کا یہاں ٹھکانا ہے

ہمارے دل میں کوئی اور آ نہیں سکتا

 

مرے حسین کے ایثار و استقامت کی

جہاں میں کوئی بھی تمثیل لا نہیں سکتا

 

حسین پاک کے لشکر کا جو سپاہی ہے

کسی کے سامنے وہ سر جھکا نہیں سکتا

 

رسول پاک کی بیٹی ہے پاسباں اسکی

حسینیت کو زمانہ مٹا نہیں سکتا

 

کھنچا ہوا مرے اطراف ہے حصار حسین

کوئی یزید مرے پاس آ نہیں سکتا

 

مرے حسین سے الفت نہیں جسے اے نورؔ

قسم خدا کی وہ جنت میں جا نہیں سکتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ