اردوئے معلیٰ

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے

وہ چومنے کو نظر کاش بار بار چلے

 

پڑیں نہ پاؤں تقدس کا یہ تقاضا ہے

وہ خاک جس پہ نبی زندگی گزار چلے

 

دلوں کو سجدہ روا اس مقام کا بھی ہے

نبی کے دوش کے جس جا پہ شہ سوار چلے

 

وہ حجرہ دیکھے جہاں عمرؓ فیصلے کرتے

وہ خاک چومے جہاں حیدرِ کرارؓ چلے

 

وہ گھر بھی چومے جہاں تھے ایوب انصاریؓ

وہ راہ چومے جدھر ان کے یار غار چلے

 

وضو بغیر، تصور بھی جرم ہے لوگو

وہاں پہ جائے تو انسان اشک بار چلے

 

وہ باغ دیکھے جو عثماںؓ نے دین کو بخشا

وہ غار دیکھے جہاں ان کے یار غار چلے

 

یہ شوق بھی ہے تڑپ بھی ہے تشنگی بھی ہے

جو آس جائے تو پاؤں کہاں اتار چلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ